۶۸۹۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، حِیْنَ أَرَادَ الرُّجُوْعَ مِنْ سَرْغٍ ، وَاسْتَشَارَ النَّاسَ .فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ ، مِنْہُمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَمِنَ الْمَوْتِ تَفِرُّ ؟ اِنَّمَا نَحْنُ بِقَدَرٍ ، وَلَنْ یُصِیْبَنَا اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا۔فَقَالَ عُمَرُ : یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ ، لَوْ کُنْتُ بِوَادٍ ، اِحْدٰی عُدْوَتَیْہِ مُخَصَّبَۃٌ ، وَالْأُخْرٰی مُجْدِبَۃٌ ، أَیُّہُمَا کُنْتُ تَرْعٰی؟ قَالَ : الْمُخَصَّبَۃُ .قَالَ : فَاِنَّا اِنْ تَقَدَّمْنَا فَبِقَدَرٍ ، وَاِنْ تَأَخَّرْنَا فَبِقَدَرٍ ، وَفِیْ قَدَرٍ ، نَحْنُ .
٦٨٩٦: حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے جب مقام سرغ سے لوٹنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں سے مشورہ کیا ایک جماعت نے جن میں ابو عبیدہ (رض) بھی تھے انھوں نے کہا کیا موت سے آپ بھاگتے ہیں اور ہمارا تو وقت مقرر ہے اور ہمیں وہی ملے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے ابو عبیدہ اگر تم ایک وادی میں ہو جس کا ایک کنارہ شاداب ہو اور دوسرا قحط زدہ ہو تم ان میں سے کس کنارے پر چراؤ گے انھوں نے کہا سرسبز کنارے پر آپ (رض) نے فرمایا ہمارا آنا بھی اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہمارا واپس لوٹنا بھی اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہم بھی اللہ کی تقدیر میں ہیں۔