۶۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ ثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ عَاصِمِ ڑالْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ ( نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ وَالْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَلٰـکِنْ یَشْرَعَانِ جَمِیْعًا).
٦٩ : حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کریں لیکن یہ کہ دونوں اکٹھا شروع کریں۔
اللغات : یشرعان۔ یہ یشرع کا تثنیہ ہے۔ ابتداء کرنا۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٤٠‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٤٧‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٤٦‘ والمیاہ باب ١١‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٣٤‘ مسند احمد ٤؍١١٠؍١١١‘ ٢١٣‘ ٥؍٦٦‘ ٣٦٩۔ سنن دارقطنی کتاب الطھارۃ ١؍١١٦؍١١٧۔
مسلمان کا جوٹھا بالاتفاق پاک ہے بشرطیکہ اسی لمحہ شراب نہ پی ہو غیر مسلم کے جو ٹھے کے متعلق اختلاف ہے کہ آیا پاک ہے یا نجس ہے یا مکروہ ہے مسلمان مرد کا جوٹھا اور بچا ہوا عورت کے لیے یا عورت کا بچا ہوا مرد کے لیے یا اکٹھا یا الگ استعمال کیا ہوا جائز ہے یا نہیں اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں
نمبر ١ : عورت کیلئے مرد کا بچا ہوا پانی جائز نہیں اور مرد کیلئے عورت کا بچا ہوا پانی جائز نہیں حسن بصری و اوزاعی رحمہما اللہ کے ہاں صرف اس صورت میں جائز ہے جب کہ دونوں ساتھ ساتھ ہوں ابن المنذر کا یہ قول ہے ذھب قوم سے ان کی طرف اشارہ ہے۔
نمبر ٢ : امام ابوحنیفہ (رح) مالک (رح) و شافعی (رح) اور جمہور کے ہاں ہر ایک کے لیے جو ٹھے اور بچے ہوئے پانی کا استعمال مطلق طور پر درست ہے۔ خالفہم آخرون سے یہی مراد ہیں۔
قول اوّل کے دلائل :
چار روایات ہیں جن میں سے ایک حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) سے اور دوسری کسی اور صحابی (رض) سے مروی ہے اور تیسری و چوتھی دونوں حضرت حکم غفاری (رض) سے مروی ہیں۔