۶۹۲۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ أَیُّوْبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْقَعْقَاعُ بْنُ حَکِیْمٍ ، وَزَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، وَعُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔وَزَادَ وَلَا ہَامَۃَ ، وَلَا غُوْلَ ، وَلَا صَفَرَ۔قَالَ أَبُوْ صَالِحٍ : فَسَافَرْت اِلَی الْکُوْفَۃِ ثُمَّ رَجَعْت ، فَاِذَا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ یَنْتَقِصُ لَا عَدْوٰی لَا یَذْکُرُہَا .فَقُلْتُ: وَلَا عَدْوَیْ فَقَالَ : أَبَیْتُ ؟ .
٦٩٢٣: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اور ” ولا ہامۃ ولا غول ولا صفر “ کا اضافہ کیا ہے۔ نہ الو کی نحوست ہے اور نہ غول کی کچھ حقیقت ہے اور نہ ہی ماہ صفر کی نحوست ہے۔ ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے کوفہ کا سفر کیا پھر واپس لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ابوہریرہ (رض) ” ولا عدوی “ کا لفظ کم کرتے تھے ۔ میں نے کہا ” ولا عدوی “ تو انھوں نے کہا میں اس سے انکاری ہوں۔
تخریج : مسلم فی السلام ١٠٧؍١٠٨‘ مسند احمد ٣‘ ٣١٢؍٣٨٢۔