۶۹۲۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الرَّبِیْعِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرْبَعٌ فِیْ أُمَّتِیْ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، لَنْ یَدَعَہُنَّ النَّاسُ الطَّعْنُ فِی الْأَنْسَابِ وَالنِّیَاحَۃُ وَمُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا وَالْعَدْوٰی یَکُوْنُ الْبَعِیْرُ فِی الْاِبِلِ ، فَیَجْرَبُ ، فَیَقُوْلُ : مَنْ أَعْدَی الْأَوَّلَ۔
٦٩٢٩: ابوالربیع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا میری امت میں چار باتیں جاہلیت کے معاملات سے ہیں ان کو لوگ ترک نہ کریں گے۔ : نسب میں طعنہ زنی۔ ! نوحہ خوانی۔ " فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ # اونٹوں میں خارش کے مرض میں ایک سے دوسرے کو لگ جانا تو آپ فرماتے کس نے پہلے کو خارشی کیا۔