۶۹۳۷ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَیَّاشٍ الْحِمْصِیُّ ، قَالَ : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِیْ حَمْزَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اللّٰہُمَّ اِنَّ النَّاسَ یُحِلُّوْنِ ثَلَاثَ خِصَالٍ وَأَنَا أَبْرَأُ اِلَیْکَ مِنْہُنَّ زَعَمُوْا أَنِّیْ فَرَرْتُ مِنِ الطَّاعُوْنِ ، وَأَنَا أَبْرَأُ اِلَیْکَ مِنْ ذٰلِکَ وَأَنِّیْ أَحْلَلْتُ لَہُمْ الطِّلَائَ ، وَہُوَ الْخَمْرُ ، وَأَنَا أَبْرَأُ اِلَیْکَ مِنْ ذٰلِکَ وَأَنِّیْ أَحْلَلْتُ لَہُمُ الْمَکْسَ ، وَہُوَ النَّجِسُ ، وَأَنَا أَبْرَأُ اِلَیْکَ مِنْ ذٰلِکَ .فَہٰذَا عُمَرُ یُخْبِرُ أَنَّہٗ یَبْرَأُ اِلَی اللّٰہِ أَنْ یَکُوْنَ فَرَّ مِنِ الطَّاعُوْنِ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ ، أَنَّ رُجُوْعَہُ کَانَ لِأَمْرٍ آخَرَ غَیْرِ الْفِرَارِ .وَکَذٰلِکَ مَا أَرَادَ بِکِتَابِہٖ اِلٰی أَبِیْ عُبَیْدَۃَ أَنْ یَخْرُجَ ہُوَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ جُنْدِ الْمُسْلِمِیْنَ ، اِنَّمَا ہُوَ لِنَزَاہَۃِ الْجَابِیَۃِ ، وَعُمْقِ الْأُرْدُنِّ .فَقَدْ بَیَّنَ أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ ، فِیْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ الْمَکْرُوْھُ فِی الطَّاعُوْنِ مَا ہُوَ ؟ وَہُوَ أَنْ یَخْرُجَ مِنْہُ خَارِجٌ ، فَیَسْلَمُ فَیَقُوْلُ سَلِمْت لِأَنِّیْ خَرَجْت وَیَہْبِطُ عَلَیْہِ ہَابِطٌ فَیُصِیْبَہُ فَیَقُوْلُ أَصَابَنِیْ، لِأَنِّیْ ہَبَطْت۔وَقَدْ أَبَاحَ أَبُوْ مُوْسَیْ مَعَ ذٰلِکَ لِلنَّاسِ أَنْ یَتَنَزَّہُوْا عَنْہُ، اِنْ أَحَبُّوْا ، فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَاہٗ، عَلَی التَّفْسِیْرِ الَّذِیْ وَصَفْنَا .فَہٰذَا مَعْنٰی ہٰذِہِ الْآثَارِ ، وَعِنْدَنَا ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ . وَأَمَّا الطِّیَرَۃُ ، فَقَدْ رَفَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَجَائَ تِ الْآثَارُ بِذٰلِکَ مَجِیْئًا مُتَوَاتِرًا .
٦٩٣٧: زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ اے اللہ لوگ تین خصال اختیار کرنے والے ہیں اور میں ان تینوں سے تیری بارگاہ میں برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ میں طاعون سے فرار اختیار کرنے والا ہوں۔ اے اللہ تعالیٰ میں تیری بارگاہ میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ ! میں نے نبیذ طلاء (گاڑھا نبیذ) کو ان کے لیے حلال کردیا حالانکہ وہ تو شراب ہے میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ " میں نے ان کے لیے مکس (ٹیکس سے زائد) کو ان کے لیے حلال کیا ہے حالانکہ وہ تو پلید ہے اے اللہ میں اس سے بھی تیری بارگاہ میں برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ عمر (رض) ہیں جو اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ اس سے بری الذمہ ہیں کہ وہ طاعون سے فرار اختیار کرنے والے ہوں۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان کی واپسی فرار کی وجہ سے نہ تھی بلکہ کسی دوسری غرض سے تھی۔ اسی طرح ان کا حضرت ابو عبیدہ (رض) کو یہ لکھنا کہ وہ خود اور اسلامی لشکر اس علاقہ سے نکل آئیں اس کی وجہ جابیہ کا پرفضا ہونا اور اردن کا گہرا ہونا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے شعبہ کی روایت میں واضح کردیا طاعون میں کیا چیز مکروہ ہے وہ یہ ہے کہ کوئی نکلے اور سلامت رہے اور یہ کہنے لگے کہ میں نکلنے کی وجہ سے بچ گیا اور وہاں کوئی چلا جائے اور وہ طاعون کا شکار ہوجائے تو کہنے لگے یہ طاعون میرے یہاں آنے کی وجہ سے مجھ پر پڑی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے لوگوں کا وہاں سے کوچ مباح کردیا اگر وہ پسند کریں۔ یہ آثار اس تفسیر پر دلالت کر رہے ہیں جو ہم نے بیان کی ہے۔ آثار کو سامنے رکھ کر ہمارے ہاں یہی معنی ہیں۔ بدفالی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی ختم کیا جیسا کہ متواتر روایات اس پر وارد ہوئی ہیں۔