۶۹۶۵ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُوْلُ : جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا خَیْرَ الْبَرِّیَّۃِ ، فَقَالَ ذَاکَ أَبِیْ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔
٦٩٥٦: مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) کو فرماتے سنا کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : یاخیرالبریہ اے مخلوق میں سب سے بہتر تو آپ نے فرمایا وہ تو میرے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی السنۃ باب ١٨‘ مسند احمد ٣‘ ١٧٨؍١٨١۔
خلاصہ الزام :
حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے مابین انفرادی صفات میں ایک دوسرے پر ترجیح میں کوئی حرج نہیں۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے انبیاء (علیہم السلام) میں ترجیح کا سلسلہ ہرگز جائز نہیں ہے۔