۶۹۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ حُلِیِّ الْحِمْصِیُّ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ : حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ بْنُ حُمْرَۃَ الْأَمْلُوْکِیُّ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (مَنْ تَوَضَّأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَبِہَا وَنَعْمَتْ، وَقَدْ أَدَّی الْفَرْضَ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ) .فَبَیَّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْفَرْضَ ہُوَ الْوُضُوْئُ، وَأَنَّ الْغُسْلَ أَفْضَلُ لِمَا یَنَالُ بِہٖ مِنَ الْفَضْلِ لَا عَلٰی أَنَّہٗ فَرْضٌ .فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ وُجُوْبِ ذٰلِکَ، بِمَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَسَعْدٍ وَأَبِیْ قَتَادَۃَ، وَأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٦٩٧: حسن نے کہا کہ انس بن مالک (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اچھا اور بہتر ہے اس نے اپنے فریضہ کو ادا کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں واضح کردیا کہ وضو فرض ہے اور غسل افضل ہے اس شخص کے لیے جو فضیلت کو حاصل کرنا چاہتا ہو نہ یہ کہ وہ فرض ہے۔ اگر کوئی وجوب کے لیے یہ دلیل پیش کرے جس کی حضرت علی ‘ سعد ‘ ابوقتادہ ‘ ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے۔
تخریج : تخریج ٦٩٢ کو ملاحظہ کریں۔
ضروری تنبیہ :
اس حدیث میں تو صاف فرما دیا گیا کہ فرض وضو ہے اور غسل افضل ہے تاکہ زائد ثواب پالے ۔
حاصل روایات : ان روایات ستہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا غسل فرض نہیں بلکہ حصول فضیلت کے لیے ہے پس لفظ امر سے فرضیت پر استدلال درست نہ ہوا ورنہ ان روایات کی کوئی تاویل نہ ہو سکے گی۔
ایک اہم اعتراض :
حضرت علی ‘ سعد ‘ ابو قتادہ ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایسی روایات پائی جاتی ہیں جو وجوب غسل پر دلالت کرتی ہیں۔