hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6979

.

الطحاوي

6979
Al Tahawi
۶۹۷۶ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَأَنَّہٗ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ، وَزَادَ قَدْ سَبَّحَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فِی الظُّلُمَاتِ فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّخْیِیْرِ بَیْنَہٗ، وَبَیْنَ أَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِیَائِ بِعَیْنِہٖ ، وَأَخْبَرَ بِفَضِیْلَۃٍ لِکُلِّ مَنْ ذَکَرَہٗ مِنْہُمْ لَمْ تَکُنْ لِغَیْرِہٖ۔ فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ فَیُجْعَلُ مُضَادًّا لِحَدِیْثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ؟ .قُلْتُ : لَیْسَ ہٰذَا عِنْدِی ، بِمُضَاد لَہٗ، لِأَنَّ حَدِیْثَ الْمُخْتَارِ ، اِنَّمَا ہُوَ عَلٰی أَنَّ اِبْرَاھِیْمَ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ ، فَلَمْ یَقْصِدْ فِیْ ذٰلِکَ اِلٰی أَحَدٍ دُوْنَ أَحَدٍ .وَفِی الْآثَارِ الْأُخَرِ ، تَفْضِیْلُ نَبِیْ عَلٰی نَبِی ، فَفِیْ تَفْضِیْلِ أَحَدِہِمْ بِعَیْنِہٖ عَلٰی آخَرَ مِنْہُمْ ، اِزْرَائٌ عَلَی الْمَفْضُوْلِ ، وَلَیْسَ فِیْ تَفْضِیْلِ رَجُلٍ عَلَی النَّاسِ اِزْرَائٌ عَلٰی أَحَدٍ مِنْہُمْ .ہٰذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ہُوَ الْمَعْنَی ، حَتّٰیْ لَا تَتَضَادَّ ہٰذِہِ الْآثَارُ .وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَطْلَعَ رَسُوْلَہٗ عَلٰی أَنَّ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ ، وَلَمْ یُطْلِعْہُ عَلَی تَفْضِیْلِ بَعْضِ الْأَنْبِیَائِ غَیْرَہٗ عَلٰی بَعْضٍ .فَوَقَفَ فِیْمَا لَمْ یُطْلِعْہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہٖ، فَأَمَرَ بِالْوَقْفِ عِنْدَہٗ، وَأَطْلَقَ الْکَلَامَ فِیْمَا أَطْلَعَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ .
٦٩٧٦: عبداللہ بن سلمہ نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے گویا کہ انھوں نے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نقل کیا ہے پھر انھوں نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ اور یہ اضافہ کیا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے روک دیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان ترجیح دی جائے اور اس طرح آپ نے ہر پیغمبر (علیہ السلام) کی اس فضیلت کا ذکر کیا جو دوسرے کے لیے نہیں اسی کے ساتھ خاص ہے۔ یہ روایت تو مختار بن فلفل کی گزشتہ روایت کے مخالف ہے۔ یہ روایت میرے ہاں تو اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ حضرت مختار (رح) کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مخلوق میں بہتر ہیں تو اس میں کسی کو چھوڑ کر دوسرے کا قصد نہیں کیا گیا۔ جبکہ دیگر روایات میں ایک پیغمبر کی دوسرے پر فضیلت خاصہ کا تذکرہ ہے پس معین پیغمبر کو دوسرے پر فضیلت دینے سے مفضول کی توہین ہے جبکہ کسی دوسرے شخص کو دوسرے تمام لوگوں پر فضیلت دیتے ہیں تو اس صورت میں ان پر عیب جوئی نہیں ہے تو اس طرح ان روایات سے تضاد ختم ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات پر مطلع کردیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تمام مخلوق سے بہتر ہیں اور اس بات کی اطلاع نہ دی ہو کہ بعض انبیاء کرام کو دوسرے بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ تو جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اطلاع نہیں دی اس کے متعلق آپ نے توقف فرمایا اور دوسروں کو بھی توقف کا حکم فرمایا اور جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی اس میں کلام کو مطلق رکھا۔ (ممکن ہے کہ اس بات کی ممانعت ہو کہ اپنی رائے سے فضیلت نہ دو ۔ بس جو منقول ہے اس پر اکتفاء کرو کیونکہ اس کا تعلق اطلاع باری تعالیٰ پر موقوف ہے نص سے فضیلت وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض کے تحت ہے۔ مترجم واللہ اعلم)