hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 703

.

الطحاوي

703
Al Tahawi
۷۰۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ، أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ح .وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْیُوْتِرْ) .
٧٠٣: اعرج نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو ڈھیلے سے استنجاء کرے تو وہ طاق کا لحاظ رکھے۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٢٥‘ ٢٦‘ مسلم فی الطھارۃ روایت ٢٠؍٢٢‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٩‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٢١‘ مالک فی الطھارۃ ٤‘ مسند احمد ٢؍٢٣٦‘ ٢٥٤‘ ٢٧٧‘ ٢٧٨‘ ٣٠٨‘ ٣١٥‘ ٣١٤‘ ٣٣٩‘ ٣٤٠‘۔
خلاصہ الزام : استجمار۔ ڈھیلوں سے استنجاء کرنا اس میں گندگی کے مقام کی صفائی تو بالاتفاق واجب ہے اور طاق عدد کا لحاظ بہتر ہے آیا تین ڈھیلے ضروری ہیں یا کم و بیش ہوسکتے ہیں اس میں اختلاف ہے اسی کو یہاں بیان کرتے ہیں امام شافعی ‘ احمد (رح) کے ہاں تین پتھروں کا استعمال لازم ہے امام مالک ‘ ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ کے ہاں تین ڈھیلے مستحب ہیں۔