hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7036

.

الطحاوي

7036
Al Tahawi
۷۰۳۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ الْأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہٖ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّہٗ قَالَ وَالنَّاسُ فِیْ مَبِیتِہِمْ ، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنَادِیًا أَلَا لَا یَبْقَیَن فِیْ عُنُقِ بَعِیْرٍ قِلَادَۃٌ ، وَلَا وَتَرٌ ، اِلَّا قُطِعَتْ۔قَالَ مَالِکٌ : أَرٰی ذٰلِکَ مِنَ الْعَیْنِ .فَکَانَ ذٰلِکَ - عِنْدَنَا ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - مَا عُلِّقَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، لِیُدْفَعَ ، وَذٰلِکَ مَا لَا یَسْتَطِیْعُہٗ غَیْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَنَہٰی عَنْ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ شِرْکٌ .فَأَمَّا مَا کَانَ بَعْدَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، فَلَا بَأْسَ ، لِأَنَّہٗ عِلَاجٌ .وَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا الْکَلَامُ بِعَیْنِہٖ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا .
٧٠٣٣: عباد بن تمیم کہتے ہیں کہ ابو بشر انصاری (رض) نے بتلایا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھا عبداللہ بن ابی بکر (رض) کہتے ہیں میرے خیال میں انھوں نے یہ لفظ کہے ” والناس فی بیتہم “ جبکہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک منادی کو بھیج کر یہ اعلان کرایا کسی اونٹ کے گلے میں ہار یا تانت ہو اس کو کاٹ ڈالا جائے۔ امام مالک کہتے ہیں میرے خیال میں یہ نظر سے بچانے کی خاطر کیا گیا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ قلائد ہیں جو مصائب کے اترنے سے پہلے ڈالے جاتے ہیں تاکہ وہ مصائب سے دور رہیں اور یہ بات غیر اللہ کے اختیار میں نہیں پس اس سے روکا گیا کیونکہ یہ شرک ہے باقی وہ تعویذات جو تکالیف کے اترنے کے لیے ڈالے جاتے ہیں ان میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ علاج ہے۔ حضرت عائشہ (رض) سے بعینہٖ یہ بات روایت میں وارد ہے (ملاحظہ ہو)
تخریج : بخاری فی الجہاد باب ١٣٩‘ مسلم فی اللباس ١٠٥‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ٤٥‘ مالک فی صفۃ النی ٣٩‘ مسند احمد ٥؍٢١٦۔