۷۰۳۵: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ أَوْ سَعْدٍ عَنْ بُکَیْرٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ، مِثْلَہٗ۔فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ الْکَیُّ نُہِیَ عَنْہُ، اِذَا فُعِلَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، وَأُبِیْحَ اِذَا فُعِلَ بَعْدَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، لِأَنَّ مَا فُعِلَ بَعْدَ نُزُوْلِ الْبَلَائِ ، فَاِنَّمَا ہُوَ عِلَاجٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْعِلَاجِ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَرُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا۔
٧٠٣٥: طلحہ بن ابی سعد یا طلحہ بن ابی سعید نے بکیر سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
عین ممکن ہے کہ اس سے ممنوعہ داغ دینا مراد ہو جبکہ مصیبت اترنے سے پہلے اس کو کیا جائے اور مصائب کے اترنے پر اس کا کرنا مباح ہے کیونکہ یہ علاج میں شامل ہے۔
علاج کے سلسلہ میں مزید روایات :
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علاج کے سلسلہ میں پہلے بھی روایات گزریں اب مزید ذکر کرتے ہیں۔