۷۰۴۴: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِیْ حَثْمَۃَ عَنْ حَفْصَۃَ ، أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ قُرَیْشٍ ، یُقَالُ : لَہَا الشِّفَائُ کَانَتْ تَرْقِیْ مِنَ النَّمْلَۃِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِّمِیْھَا حَفْصَۃَ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِبَاحَۃُ الرُّقْیَۃِ مِنَ النَّمْلَۃِ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَانَ بَعْدَ النَّہْیِ ، فَیَکُوْنُ نَاسِخًا لِلنَّہْیِ ، أَوْ یَکُوْنُ النَّہْیُ بَعْدَہٗ، فَیَکُوْنُ نَاسِخًا لَہٗ۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اِبَاحَۃِ الرُّقْیَۃِ مِنَ الْجُنُوْنِ ۔
٧٠٤٤: ابوبکر بن سلیمان نے حضرت حفصہ (رض) سے روایت کی ہے کہ قریش کی ایک عورت جس کا نام الشفاء تھا۔ وہ چیونٹی کا دم کرتی تھی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ حفصہ (رض) کو سکھا دو ۔ اس روایت سے چیونٹی کے دم کا جواز ثابت ہے ممکن ہے کہ یہ ممانعت کے بعد ہو تو یہ نہی کی ناسخ بن جائے گی اور اگر نہی اس کے بعد ہو تو وہ اس کی ناسخ ہوگی اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنوں کے دم کی اباحت ثابت ہے۔ (روایت یہ ہے)
تخریج : مسند احمد ٦؍٢٨٦۔
جنون اور نظر کے دَم کا ثبوت :