hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7065

.

الطحاوي

7065
Al Tahawi
۷۰۶۲: وَحَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃِ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ : حَبَّبَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ وَقَالَ مُسْلِمٌ : بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَبَّبَ لَہُمُ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ ، وَفِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ، أَنَّہٗ کَانَ یَکْرَہُ ذٰلِکَ .فَوَجْہُہُمَا ، عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَنَّہٗ کَرِہَ لَہُمْ مِنَ السَّمَرِ مَا لَیْسَ بِقُرْبَۃٍ ، وَحَبَّبَ لَہُمْ مَا ہُوَ قُرْبَۃٌ عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ عَنْ أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الثَّانِیَۃِ ، الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .
٧٠٦٢: ابو وائل کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ نے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عشاء کے بعد گفتگو کے لیے ہماری طرف متوجہ ہوئے مسلم کی روایت میں صلوۃ العتمہ کی بجائے صلوۃ العشاء کا لفظ ہے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد گفتگو کے لیے ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پہلی روایت میں گفتگو کی کراہت ذکر کی گئی ہے دونوں میں تطبیق کی شکل ہمارے ہاں یہی ہے کہ ایسی گفتگو مکروہ ہے جو باعث قربت نہ ہو اور دوسری روایت آپ کا گفتگو کے لیے متوجہ ہونا اس کا تعلق ایسی گفتگو سے ہے جو نیکی کا باعث ہو۔