۷۰۶۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَیْمُوْنُ بْنُ یَحْیَیْ عَنْ آلِ الْأَشَجِّ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَمْرُو بْنِ شُعَیْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَیَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہُمْ قَالُوْا : لَوْ أَنَّ امْرَأَۃً جَلَسَتْ عِنْدَ عَبْدِ زَوْجِہَا بِغَیْرِ خِمَارٍ لَمْ یَکُنْ بِذٰلِکَ بَأْسًا .قَالَ بُکَیْر : وَأَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ کَانَتْ تَجْلِسُ عِنْدَ عَبْدٍ لِقَاسِمٍ وَہُوَ زَوْجُہَا بِغَیْرِ خِمَارٍ قَالَ : بُکَیْر عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَتْ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا یَرَاہَا الْعَبِیْدُ لِغَیْرِہَا قَالَ : بَکْرٌ قَالَتْ أُمُّ عَلْقَمَۃَ مَوْلَاۃُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تُدْخِلُ عَلَیْہَا عَبِیْدَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَاِنْ کَانَ عَبِیْدُ النَّاسِ ، لَیَرَوْنَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بَعْدَ أَنْ یَحْتَلِمَ أَحَدُہُمْ وَاِنَّہَا لَتَمْتَشِطُ .قَالَ بُکَیْر : عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ لَمْ تَکُنْ أُمُّ سَلَمَۃَ تَحْتَجِبُ مِنْ عَبِیْدِ النَّاسِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یَنْظُرُ الْعَبْدُ مِنَ الْحَرَّۃِ اِلَّا اِلٰی مَا یَنْظُرُ اِلَیْہِ مِنْہَا الْحُرُّ الَّذِیْ لَا مَحْرَمَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِیْ ذٰکَرُوْا فِیْ حَدِیْثِ أُمِّ سَلَمَۃَ ، لَا یَدُلُّ عَلٰی مَا قَالَ : أَہْلُ تِلْکَ الْمَقَالَۃِ ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِذٰلِکَ حِجَابَ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ ، فَاِنَّہُنَّ قَدْ کُنَّ حُجِبْنَ عَنِ النَّاسِ جَمِیْعًا ، اِلَّا مَنْ کَانَ مِنْہُمْ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ .فَکَانَ لَا یَجُوْزُ لِأَحَدٍ أَنْ یَرَاہُنَّ أَصْلًا اِلَّا مَنْ کَانَ بَیْنَہُنَّ وَبَیْنَہُ رَحِمٌ مَحْرَمٌ ، وَغَیْرُہُنَّ مِنْ النِّسَائِ ، لَسْنَ کَذٰلِکَ لِأَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یَنْظُرَ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَۃِ الَّتِیْ لَا رَحِمَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہَا ، وَلَیْسَتْ عَلَیْہِ بِمَحْرَمَۃٍ اِلٰی وَجْہِہَا وَکَفَّیْہَا ، وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا۔فَقَدْ قِیْلَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٠٦٨: عمرو بن شعیب ‘ یزید بن عبداللہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن سب کا قول یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے غلام کے سامنے بغیر دوپٹے کے بیٹھے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ بکیر راوی کہتے ہیں : کہ مجھے عبدالرحمن بن قاسم نے بتلایا کہ اسماء بنت عبدالرحمن قاسم کے غلام کے پاس اپنے خاوند کے ساتھ بغیر دوپٹے کے بیٹھتی تھیں بکیر نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے نقل کیا کہ حضرت عائشہ (رض) کو دوسروں کے غلام بھی دیکھتے تھے بکر نے ام علقمہ سے جو حضرت عائشہ (رض) کی لونڈی ہیں ان سے بیان کیا کہ مسلمانوں کے غلام آپ کی زیارت کے لیے آپ کے ہاں داخل ہوتے اگرچہ وہ بالغ ہوتے اور حضرت عائشہ (رض) کنگھی کر رہی ہوتی تھیں بکیر نے عبداللہ بن رافع سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ لوگوں کے غلاموں سے پردہ نہ کرتی تھیں۔ دوسرے فریق نے یہ کہا کہ کوئی غلام کسی آزاد عورت کو نہیں دیکھ سکتا سوائے اس حصے کے جس کو آزاد غیر محرم دیکھ سکتا ہو۔ روایت ام سلمہ (رض) میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتا جو فریق اوّل نے مراد لیا ہے کیونکہ عین ممکن ہے اس سے مقصود امہات المومنین کا پردہ کرنا ہو وہ اپنے محرموں کے علاوہ سب سے پردہ کرتی تھیں کسی کو انھیں دیکھنا جائز نہیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ان کا رحم کا رشتہ تھا اور دیگر عورتیں ان کا حکم اس طرح نہیں کیونکہ کسی عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف دیکھنے میں حرج نہیں اگرچہ وہ اس کا محرم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ولا یبدین زینتہن “ (نور : ٣١) وہ عورتیں اپنی زینت کو ہرگز ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے ظاہر ہو اس سلسلے میں اس طرح کہا گیا ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے۔
بکیر راوی کہتے ہیں : کہ مجھے عبدالرحمن بن قاسم نے بتلایا کہ اسماء بنت عبدالرحمن قاسم کے غلام کے پاس اپنے خاوند کے ساتھ بغیر دوپٹے کے بیٹھتی تھیں بکیر نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے نقل کیا کہ حضرت عائشہ (رض) کو دوسروں کے غلام بھی دیکھتے تھے بکر نے ام علقمہ سے جو حضرت عائشہ (رض) کی لونڈی ہیں ان سے بیان کیا کہ مسلمانوں کے غلام آپ کی زیارت کے لیے آپ کے ہاں داخل ہوتے اگرچہ وہ بالغ ہوتے اور حضرت عائشہ (رض) کنگھی کر رہی ہوتی تھیں بکیر نے عبداللہ بن رافع سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ لوگوں کے غلاموں سے پردہ نہ کرتی تھیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : دوسرے فریق نے یہ کہا کہ کوئی غلام کسی آزاد عورت کو نہیں دیکھ سکتا سوائے اس حصے کے جس کو آزاد غیر محرم دیکھ سکتا ہو۔
فریق اوّل کا جواب : روایت ام سلمہ (رض) میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتا جو فریق اوّل نے مراد لیا ہے کیونکہ عین ممکن ہے اس سے مقصود امہات المومنین کا پردہ کرنا ہو وہ اپنے محرموں کے علاوہ سب سے پردہ کرتی تھیں کسی کو انھیں دیکھنا جائز نہیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ان کا رحم کا رشتہ تھا اور دیگر عورتیں ان کا حکم اس طرح نہیں کیونکہ کسی عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف دیکھنے میں حرج نہیں اگرچہ وہ اس کا محرم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ولا یبدین زینتہن “ (نور : ٣١) وہ عورتیں اپنی زینت کو ہرگز ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے ظاہر ہو اس سلسلے میں اس طرح کہا گیا ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے۔