۷۰۷۶: حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ ، فِیْمَا أُنْزِلَ ، وَکَانَ أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فِیْ مَبْنَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِزَیْنَبِ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ بِہَا عَرُوْسًا .فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوْا مِنِ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوْا ، وَبَقِیَ رَہْطٌ مِنْہُمْ ، عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوْا الْمُکْثَ .فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَخَرَجَ ، وَخَرَجْتُ مَعَہٗ حَتّٰی جَائَ عَتَبَۃَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ثُمَّ ظَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوْا فَرَجَعَ ، وَرَجَعْتُ مَعَہٗ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ فَاِذَا ہُمْ جُلُوْسٌ ، فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعْتُ مَعَہٗ، حَتّٰی اِذَا بَلَغَ عَتَبَۃَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ، وَظَنَّ أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوْا ، رَجَعَ ، وَرَجَعْتُ مَعَہُ فَاِذَا ہُمْ قَدْ خَرَجُوْا .فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ بِالسِّتْرِ ، وَأَنْزَلَ الْحِجَابَ۔
٧٩٧٦: ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے حضرت انس (رض) نے بتلایا کہ میں پردے کے معاملے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں کہ کس سلسلے میں وہ آیت اتری سب سے پہلی آیت کا وہ موقع ہے جب حضرت زینب (رض) کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی ہوئی اور آپ نے شب زفاف گزاری آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا وہ آئے اور چلے گئے ایک جماعت ان میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رکی رہی اور کافی دیر وہ ٹھہرے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر باہر نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ حجرہ عائشہ (رض) کے چوکھٹ تک پہنچ گئے پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گمان کیا کہ وہ نکل چکے ہیں تو آپ لوٹے اور میں بھی آپ کے ساتھ ہی لوٹا آپ حضرت زینب کے مکان میں داخل ہوئے تو وہ بیٹھے تھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹا یہاں تک کہ آپ حجرہ عائشہ (رض) کے چوکھٹ تک پہنچ گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ وہ نکل چکے ہوں گے تو آپ واپس لوٹ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹا وہ تو نکل چکے تھے تو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب اتار دی۔
تخریج : بخاری فی تفسیر ٣٣‘ باب ٨‘ والنکاح باب ٦٧‘ مسند احمد ٣؍٢٤١۔