۷۰۸۳: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ : ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِیْفَۃَ عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ عَلِیْ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ وُلِدَ لَک بَعْدِی ابْنٌ فَسَمِّہٖ بِاسْمٰی ، وَکَنِّہِ بِکُنْیَتِی ، وَہِیَ لَک خَاصَّۃً دُوْنَ النَّاسِ۔قَالُوْا : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، الْخُصُوْصِیَّۃُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیْ بِذٰلِکَ دُوْنَ النَّاسِ .قِیْلَ لَہُمْ : ہٰذَا کَمَا ذَکَرْتُمْ ، لَوْ ثَبَتَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَلٰی مَا رَوَیْتُمْ ، وَلٰـکِنَّہٗ لَیْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَنَا ، لِأَنَّ أَیُّوْبَ بْنَ وَاقِدٍ لَا یَقُوْمُ مَقَامَ مَنْ خَالَفَہُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مِمَّنْ رَوَاہٗ عَنْ فِطْرٍ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .فَقَالَ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ خَاصًّا لِعَلِیْ بَعْدَ أَنِ افْتَرَقُوْا فِرْقَتَیْنِ .فَقَالَتْ فِرْقَۃٌ : لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَتَکَنَّیْ بِأَبِی الْقَاسِمِ ، سَوَائٌ کَانَ اسْمُہٗ مُحَمَّدًا ، أَوْ لَمْ یَکُنْ .وَقَالَتِ الْفُرْقَۃُ الْأُخْرٰی : لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ مِمَّنْ سُمِّیَ بِمُحَمَّدٍ أَنْ یُکَنّٰی بِأَبِی الْقَاسِمِ ، وَلَا بَأْسَ لِمَنْ لَمْ یَتَسَمَّ بِمُحَمَّدٍ أَنْ یَتَکَنَّیْ بِأَبِی الْقَاسِمِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا قُلْنَا ، فِیْ خُصُوْصِیَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ عَلِیًّا۔
٧٠٨٣: محمد بن حنفیہ نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میرے بعد تیرے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اس کا نام میرے نام پر رکھنا اور اس کی کنیت میری کنیت پر رکھنا یہ تیرے لیے خاص ہے لوگوں کو درست نہیں۔ اس روایت میں حضرت علی (رض) کے لیے اس کی خصوصیت مذکور ہے دوسرے لوگوں کے لیے نہیں۔ اگر یہ روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو بات اسی طرح ہے جیسا تم نے کہی۔ مگر یہ روایت سرے سے ثابت نہیں کیونکہ ایوب بن واقد اس درجے کا راوی نہیں جس درجہ کے راوی فطر ہیں ان کی روایت اس کے خلاف ہے۔ یہ حضرت علی (رض) کے ساتھ خاص تھی اس کے بعد لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ کسی کو آپ کی کنیت اختیار کرنا جائز نہیں خواہ اس کا نام محمد ہو یا نہ ہو۔ جس کا نام محمد ہو اس کی کنیت ابوالقاسم مناسب نہیں البتہ جس کا نام محمد نہ ہو اس کو یہ کنیت درست ہے اور مندرجہ ذیل روایات اس کی دلیل ہیں۔ کہ یہ حضرت علی (رض) کے ساتھ خاص ہے۔