۷۲۱۹ : وَبِمَا حَدَّثَنَا یَزِیْدُ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَسْلَمَ ، ثُمَّ ذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَنْ مَلَکَ خَمْسِیْنَ دِرْہَمًا أَوْ عِدْلَہَا مِنَ الذَّہَبِ ، حُرِّمَتْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لَہُمُ الْمَسْأَلَۃُ ، وَمَنْ مَلَکَ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ ، لَمْ تُحَرَّمْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٢١٩: سفیان نے زید بن اسلم سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ فریق ثالث کا مؤقف ہے کہ جو پچاس دراہم یا اس کے برابر سونے کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال درست نہیں اور جو اس سے کم کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام نہیں ہے انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ہے۔