۷۲۲۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْبَغْدَادِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ھُشَیْمٍ الرِّفَاعِیُّ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ کُدُوْحًا فِیْ وَجْہِہٖ وَلَمْ یَشُکَّ ، وَزَادَ فَقِیْلَ لِسُفْیَانَ : وَلَوْ کَانَ عَنْ غَیْرِ حَکِیْمٍ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنَاہٗ زُبَیْدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ۔ اَوَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَنْ مَلَکَ مِئَتَیْ دِرْہَمٍ ، حُرِّمَتْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ وَالْمَسْأَلَۃُ ، وَمَنْ مَلَکَ دُوْنَہَا لَمْ تُحَرَّمْ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃُ ، وَلَمْ تُحَرَّمْ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ أَیْضًا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٧٢٢١: یحییٰ بن آدم نے سفیان ثوری سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ کدو حاً کے بعد فی وجہہٖ کے الفاظ زائد ہیں سفیان سے کہا گیا کہ غیر حکیم سے روایت کس طرح ہے۔ تو انھوں نے کہا زبید نے محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی ہے۔ جو شخص دو سو دراہم کا مالک ہو اس پر صدقہ اور سوال حرام ہے اور جو اس کم مقدار کا مالک ہو اس پر سوال حرام نہیں اور نہ ہی اس پر صدقہ حرام ہے ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔