۷۲۲۴ : بِمَا حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ لَمَا اُسْتُخْلِفَ ، وَجَّہَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِلَی الْبَحْرَیْنِ ، فَکَتَبَ لَہٗ ہٰذَا الْکِتَابَ .ہٰذِہٖ فَرِیْضَۃُ الصَّدَقَۃِ ، الَّتِیْ فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ ، الَّتِی أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا رَسُوْلَہٗ، فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی وَجْہِہَا ، فَلْیَعْلَمْہَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَہَا ، فَلَا یُعْطِہٖ۔ کَانَ فِیْ کِتَابِہٖ ذٰلِکَ ، أَنَّ الْاِبِلَ اِذَا زَادَتْ عَلَی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ ، فَفِیْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ ، وَفِیْ کُلِّ خَمْسِیْنَ حِقَّۃٌ .
٧٢٢٤: ثمامہ بن عبداللہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت صدیق (رض) نے جب خلافت کی باگ سنبھالی تو حضرت انس (رض) کو بحرین کی طرف روانہ فرما کر یہ خط تحریر فرمایا یہ فرض زکوۃ ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے۔ اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے۔ جو اس کو مسلمانوں سے اس کے طریقہ کے مطابق مانگے تو وہ اس کو ادا کرے اور جس سے اضافہ کے ساتھ سوال کیا جائے وہ نہ دے۔ اور ان کے خط میں یہ بھی تھا کہ جب اونٹوں کی تعداد ایک سو بیس سے بڑھ جائے تو پھر ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ دیا جائے گا۔