۷۲۳۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ ، مَرَضًا أَشْفَیْتُ مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ .فَأَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدنِیْ، فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ لِیْ مَالًا کَثِیْرًا ، وَلَیْسَ یَرِثُنِیْ اِلَّا ابْنَتِی أَفَأَتَصَدَّقُ بِمَالِیْ کُلِّہٖ؟ قَالَ لَا .قَالَ : أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟ قَالَ لَا قَالَ : فَالشَّطْرِ ؟ قَالَ لَا قَالَ : فَالثُّلُثِ ؟ قَالَ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔
٧٢٣٦: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ میں فتح مکہ والے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کو جھانکنے لگا تو میرے پاس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا تمام مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں میں نے دوبارہ استفسار کیا کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں تو فرمایا نہیں پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ نصف مال ؟ تو ارشاد ہوا نہیں پھر عرض کیا ایک ثلث مال تو فرمایا تیسرا حصہ اور تیسرا حصہ بہت ہے۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٣٧‘ مانقب الانصار باب ٤٩‘ والفرائض باب ٦‘ والمرضیٰ باب ١٦‘ والدعوات باب ٤٣‘ والمغازی باب ٧٧‘ مسلم فی الوصیۃ باب ٥‘ ابو داؤد فی الوصایا باب ٢‘ نسائی فی الوصیۃ باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الوصیۃ باب ٥‘ مالک فی الوصایۃ ٤‘ مسند احمد ١؍١٧٩۔۔۔ خلاصہ الزام :
اس سلسلہ میں دو قول ہیں :
مکمل ٣؍١ میں وصیت کرے۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ ٣؍١ سے کم میں وصیت کرے وہی نافذالعمل ہوگی ۔ یہ ائمہ احناف کا قول ہے۔
فریق اوّل کی مستداول روایات :