hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 7248

.

الطحاوي

7248
Al Tahawi
۷۲۴۵ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ جَعَلَ الْعَتَاقَ فِی الْمَرَضِ ، مِنْ الثُّلُثِ ، فَکَذٰلِکَ الْہِبَاتُ وَالصَّدَقَاتُ .وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَہَبَ اِلٰی ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَیْضًا بِحَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَادَہٗ فِیْ مَرَضِہٖ فَقَالَ : أَتَصَدَّقُ بِمَالِیْ کُلِّہٖ؟ فَقَالَ لَا حَتّٰی رَدَّہُ اِلَی الثُّلُثِ، عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .قَالَ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ قَدْ جَعَلَ صَدَقَتَہُ فِیْ مَرَضِہِ مِنْ الثُّلُثِ ، کَوَصَایَاہُ مِنْ الثُّلُثِ ، مِنْ بَعْدِ مَوْتِہٖ۔وَیَدْخُلُ لِمُخَالِفِہِ عَلَیْہٖ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ، عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ سُؤَالَہٗ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ ، اِنَّمَا کَانَ عَلَی الْوَصِیَّۃِ بِالصَّدَقَۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا عَنْہُ، فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .فَلَیْسَ مَا احْتَجَّ ہُوَ بِہٖ ، مِنْ حَدِیْثِ عَامِرٍ ، بِأَوْلٰی مِمَّا احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِ مُخَالِفُہٗ، مِنْ حَدِیْثِ مَصْعَبٍ .ثُمَّ تَکَلَّمَ النَّاسُ بَعْدَ ہٰذَا، فِیْمَنْ أَعْتَقَ سِتَّۃَ أَعْبُدٍ لَہٗ عِنْدَ مَوْتِہٖ، لَا مَالَ لَہٗ غَیْرُہُمْ ، فَأَبَی الْوَرَثَۃُ أَنْ یُجِیزُوْا .فَقَالَ قَوْمٌ ، یُعْتَقُ مِنْہُمْ ثُلُثُہُمْ ، وَیَسْعَوْنَ فِیْمَا بَقِیَ مِنْ قِیْمَتِہِمْ ، وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَالَ آخَرُوْنَ : یَعْتِقُ مِنْہُمْ ثُلُثُہُمْ ، وَیَکُوْنُ مَا بَقِیَ مِنْہُمْ ، رَقِیْقًا لِوَرَثَۃِ الْمُعْتِقِ .وَقَالَ آخَرُوْنَ : یُقْرَعُ بَیْنَہُمْ ، فَیُعْتَقُ مِنْہُمْ مَنْ قُرِعَ مِنْ الثُّلُثِ ، وَرُقَّ مَنْ بَقِیَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ذَکَرْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ حَدِیْثِ عِمْرَانَ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِأَہْلِ الْمَقَالَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَنَّ مَا ذَکَرُوْا مِنَ الْقُرْعَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْ حَدِیْثِ عِمْرَانَ ، مَنْسُوْخٌ لِأَنَّ الْقُرْعَۃَ قَدْ کَانَتْ فِیْ بَدْئِ الْاِسْلَامِ ، لَا تُسْتَعْمَلُ فِیْ أَشْیَائَ ، فَحُکِمَ بِہَا فِیْہَا ، وَیُجْعَلُ مَا قُرِعَ مِنْہَا وَہُوَ الشَّیْئُ الَّذِیْ کَانَتِ الْقُرْعَۃُ مِنْ أَجْلِہٖ بِعَیْنِہٖ۔ مِنْ ذٰلِکَ ، مَا کَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَکَمَ بِہٖ ، فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْیَمَنِ .
٧٢٤٥: ابوالمہلب نے عمران سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الموت میں آزادی کو ثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الموت میں آزادی کو ثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس مذہب کے بعض علماء نے زہری کی عامر بن سعد والی روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپ شدید بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت سعد نے تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رد فرما کر تہائی مال میں اجازت دی جیسا کہ یہ روایت شروع باب میں ذکر کی گئی ہے اس روایت میں بیماری کے صدقہ کو موت کے بعد نافذ ہونے والی وصیت کی طرح تیسرا حصہ مال میں جائز قرار دیا گیا۔ مصعب بن سعد نے اس روایت کاس طرح بیان کیا کہ ان کا یہ سوال کرنا موت کے بعد صدقے کی وصیت کے سلسلے میں تھا جیسا کہ ہم نے شروع باب میں ذکر کیا۔ حضرت عامر کی روایت سے ان کا استدلال کرنا ان کے مخالفین کے اس استدلال سے بہتر نہیں جو انھوں نے مصہب کی روایت سے کیا ہے فقہاء نے اس شخص کے بارے میں جس نے موت کے بعد چھ غلام آزاد کئے اور اس کا اور مال بھی نہیں تھا اور ورثاء نے اس کی وصیت کو جائز بھی نہ قرار دیا بہت کچھ کلام کیا ہے۔ ان کا تہائی آزاد ہوجائے گا اور بقیہ غلام اپنی قیمت کے متعلق محنت و مشقت کریں گے اس بات کو امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) نے اختیار کیا۔ بعض علماء نے یہ کہا کہ دو غلام تو آزاد ہوجائیں گے اور بقیہ غلام ورثاء کی ملکیت میں برقرار رہیں گے۔ بعض نے یہ کہا ثلث کے بارے میں ان میں قرعہ اندازی کی جائے گی اور وہ آزاد ہوجائیں گے اور بقیہ غلامی میں برقرار رہیں گے اس سلسلے میں انھوں نے حضرت عمران والی روایت کو دلیل بنایا۔ تیسرے قول والوں کے خلاف پہلے دو اقوال والوں کی دلیل یہ ہے کہ روایت عمران میں جس قرعہ اندازی کا تذکرہ ہے وہ منسوخ ہے کیونکہ قرعہ شروع اسلام میں تھا پھر یہ منسوخ ہوگیا شروع اسلام میں اس کے جائز ہونے کی وجہ یہ تھی تاکہ اشیاء پر اس کے ذریعے حکم لگایا جائے اور جس چیز کی وجہ سے قرعہ اندازی کی گئی ہے وہ بعینہٖ وہی سمجھی جائے جو قرعے میں نکلی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی (رض) نے یمن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اس کو استعمال فرمایا جیسا کہ اس روایت میں ہے۔