۷۲۶ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ وَہِشَامٌ الرُّعَیْنِیُّ قَالَ : ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ شُیَیْمَ بْنَ بَیْتَانِ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَمِعَ (رُوَیْفِعَ بْنَ ثَابِتِ ڑ الْأَنْصَارِیَّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ یَا رُوَیْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ ؛ لَعَلَّ الْحَیَاۃَ سَتَطُوْلُ، بِکََ فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّ مَنِ اسْتَنْجٰی بِرَجِیْعِ دَابَّۃٍ أَوْ عَظْمٍ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْہُ بَرِیْئٌ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّہٗ لَا یُسْتَنْجٰی بِالْعِظَامِ، وَجَعَلُوا الْمُسْتَنْجِیَ بِہَا فِیْ حُکْمِ مَنْ لَمْ یَسْتَنْجِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَمْ یَنْہَ عَنْ الْاِسْتِنْجَائِ بِالْعَظْمِ لِأَنَّ الْاِسْتِنْجَائَ بِہٖ لَیْسَ کَالْاِسْتِنْجَائِ بِالْحَجَرِ وَغَیْرِہٖ، وَلَکِنَّہٗ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ جُعِلَ زَادًا لِلْجِنِّ فَأَمَرَ بَنُوْ آدَمَ أَنْ لَا یَقْذُرُوْہُ عَلَیْہِمْ .وَقَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ
٧٢٦: عیاش بن عباس سے روایت ہے کہ شییم بن بیتان نے مجھے بتلایا کہ میں نے رویفع بن ثابت انصاری (رض) کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا اے رویفع بن ثابت ! شاید تو طویل زندگی پائے تو تم لوگوں کو اطلاع کر دو کہ جس نے گوبر سے یا ہڈی سے استنجاء کیا میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہوں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کی رائے یہ ہے کہ ہڈیوں سے استنجاء نہ کیا جائے چنانچہ انھوں نے ہڈیوں کو ان چیزوں سے قرار دیا جن سے استنجاء نہیں ہوتا اور ان روایات سے استدلال کیا ہے۔ علماء کی دوسری جماعت کا مشرب یہ ہے کہ ہڈی کے ساتھ استنجاء کی ممانعت اس بناء پر نہیں کہ ان سے کیا جانے والا استنجاء استنجاء شمار نہ ہوگا بلکہ اس کی ممانعت اس لیے ہے کہ یہ جنابت کا کھانا ہے۔ پس آپ نے اولاد آدم کو حکم فرمایا کہ ہڈی کو نجاست کے ساتھ ملوث نہ کریں ‘ ان روایات میں یہ مضمون موجود ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٢٠‘ نمبر ٣٦‘ نسائی فی الزینۃ باب : ١٢
حاصل روایات :
ان روایات میں گوبر ‘ غلاظت انسانی اور ہڈی کے ساتھ استنجاء کی ممانعت فرمائی گئی ہے اس ممانعت کو دیکھ کر فریق اوّل اس بات کے قائل ہوئے کہ ان چیزوں سے استنجاء ہوتا ہی نہیں اگر کرلیا جائے تو وہ استنجاء شمار نہ ہوگا۔
فریق دوم کا مؤقف :
ہڈی اور گوبر وغیرہ سے استنجاء کی ممانعت کی وجہ یہ نہیں کہ ان سے استنجاء کرنے سے استنجاء ہوتا ہی نہیں بلکہ اس کی وجہ دوسری ہے جو احادیث میں خود موجود ہے وہ جنات کا کھانا ہے پس اولاد آدم کو حکم دیا گیا کہ ان کے استعمال کی چیز کو گندا نہ کریں۔