۷۲۶۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : أَنَا الْمُعَلَّیْ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلْحِقُوْا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ ، فَلِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ۔
٧٢٦١: طاوس نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مال کو فرائض کے ساتھ ملاؤ اور جو فرائض سے بچ جائے تو سب سے زیادہ قریبی مرد کو وہ دیا جائے۔
تخریج : بخاری فی الفرائض باب ١٥‘ مسلم فی الفرائض روایت ٣‘ ٤‘ ابن ماجہ فی الفرائض باب ١٠‘ مسند احمد ١؍٣١٣۔
خلاصہ الزام :
فریق : ماں اور حقیقی بیٹی کے ہوتے ہوئے میت کے مال سے حقیقی بھائی کو ملے گا حقیقی بہن کو کچھ نہ ملے گا۔
فریق ثانی : بیٹی سے زائد مال بھائی بہن کو ایک نسبت دو سے تقسیم ہوگا۔ ائمہ احناف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
فریق اوّل کی مستدلات :