۷۲۶۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ أَنَا مَعْمَرٌ وَسُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ رَجُلًا ، لَوْ مَاتَ ، وَتَرَکَ ابْنَتَہٗ، وَأَخَاہُ لِأَبِیْہَ وَأُخْتِہِ لِأَبِیْہَ وَأُمِّہٖ، کَانَ لِابْنَتِہِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِأَخِیْہِ لِأَبِیْہَ وَأُمِّہٖ، دُوْنَ أُخْتِہِ لِأَبِیْہَ وَأُمِّہِ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَقَالُوْا أَیْضًا : لَوْ لَمْ یَکُنْ مَعَ الْاِبْنَۃِ أَخٌ ، وَکَانَتْ مَعَہَا أُخْتٌ وَعَصَبَۃٌ ، کَانَ لِلِابْنَۃِ ، النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ ، فَلِلْعَصَبَۃِ ، وَاِنْ بَعُدُوْا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِمَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ۔
٧٢٦٥: معمر اور سفیان نے ابن طاوس سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور وہ اپنی بیٹی اور باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہن اور والدہ چھوڑ جائے تو بیٹی کو آدھا مال ملے گا اور بقیہ نصف اس کے بھائی اور ماں کا ہوگا اور اس کی حقیقی بہن کو کچھ بھی نہیں ملے گا انھوں نے اپنی اس بات کے لیے مندرجہ بالا روایت کو پیش کیا ہے۔ اور انھوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ اگر بیٹی کے ساتھ اس کا بھائی نہ ہو اور اس کے ساتھ ایک بہن اور عصبہ ہو تو اس صورت میں بیٹے کو نصف ملتا ہے اور بقیہ عصبہ کو جاتا ہے خواہ وہ دور کے رشتہ دار ہوں اور انھوں نے اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔ (روایت یہ ہے)