۷۲۸۳ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّہٖ وَاسِعِ بْنِ حَیَّانَ ، قَالَ : تُوُفِّیَ ثَابِتُ بْنُ الدَّحْدَاحِ ، وَکَانَ أَتِیًّا ، وَہُوَ الَّذِیْ لَیْسَ لَہٗ أَصْلٌ یُعْرَفُ فَقَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لِعَاصِمِ بْنِ عَدِی : ہَلْ تَعْرِفُوْنَ لَہٗ فِیْکُمْ نَسَبًا ؟ قَالَ : لَا ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَخِیْہٖ، فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہٗ۔ فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ وَرَّثَ أَبَا لُبَابَۃَ ، مِنْ ثَابِتٍ ، بِرَحِمِہِ الَّذِیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہٗ.فَثَبَتَ بِذٰلِکَ ، مَوَارِیْثُ ذَوِی الْأَرْحَامِ ، وَدَلَّ سُؤَالُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَبَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی فِیْ حَدِیْثِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنِ الْعَمَّۃِ وَالْخَالَۃِ : ہَلْ لَہُمَا مِیْرَاثٌ أَمْ لَا ؟ أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَزَلَ عَلَیْہِ شَیْئٌ فِیْمَا تَقَدَّمَ فِیْ ذٰلِکَ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا تَأَخُّرُ حَدِیْثِ وَاسِعِ ہٰذَا، عَنْ حَدِیْثِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، فَکَانَ نَاسِخًا لَہٗ۔ فَاِنْ قُلْتُمْ : اِنَّ حَدِیْثَ وَاسِعٍ ہٰذَا مُنْقَطِعٌ .قِیْلَ لَکُمْ : وَحَدِیْثُ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، مُنْقَطِعٌ أَیْضًا ، فَمَنْ جَعَلَکُمْ أَوْلٰی بِثُبُوْتِ الْمُنْقَطِعِ ، فِیْمَا یُوَافِقُکُمْ ، مِنْ مُخَالِفِکُمْ ، فِیْمَا یُوَافِقُہٗ؟ وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ہٰذَا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آثَارٍ مُتَّصِلَۃِ الْأَسَانِیدِ .مِنْہَا۔
٧٢٨٣: واسع ابن حبان نے کہا کہ ثابت بن دحداح فوت ہوگئے اور یہ باہر سے آنے والے تھے جن کے خاندان کا کچھ پتہ نہ تھا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاصم بن عدی کو فرمایا کیا تم اپنے خاندان میں اس کا نسب پہچانتے ہو۔ انھوں نے کہا نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آپ نے ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبدالمنذر کو بلایا اور اس کی میراث ان کو عنایت فرمائی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے۔ ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آپ کی مستدل روایت منقطع ہے۔ حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔ اسی طرح کی روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٣٨۔
حاصل : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے۔
t: ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آپ کی مستدل روایت منقطع ہے۔
u: حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔
!: اسی طرح کی روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔