۷۲۸۵ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ أَبِیْ أُسَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا رَمٰی رَجُلًا بِسَہْمٍ فَقَتَلَہٗ، وَلَیْسَ لَہٗ وَارِثٌ اِلَّاخَالٌ .فَکَتَبَ فِیْ ذٰلِکَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ، مَوْلٰی مَنْ لَا وَلِیَّ لَہٗ، وَالْخَالُ وَارِثٌ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ۔
٧٢٨٥: عبادہ بن حنیف نے ابو اسامہ بن سہل بن حنیف سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تیر مار کر ہلاک کردیا اور مرنے والے کا سوائے ماموں کے کوئی وارث نہ تھا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی طرف خط لکھا تو حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف یہ لکھا کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے وارث ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الفرائض باب ٨‘ ترمذی فی الفرائض باب ١٢‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٧‘ والفرائض باب ٩‘ دارمی فی الفرائض باب ٣٨‘ مسند احمد ٤؍١٣١۔