۷۲۹۷ : حَدَّثَنَا عَلِیٌّ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ قَالَ : أَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ : أَتَیْ عَبْدُ اللّٰہِ فِیْ اِخْوَۃٍ لِأُم ، وَأُم ، فَأَعْطَی الْاِخْوَۃَ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثَ ، وَأَعْطَی الْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ وَقَالَ : الْأُمُّ عَصَبَۃُ مَنْ لَا عَصَبَۃَ لَہٗ وَکَانَ لَا یَرُدُّ عَلَی الْاِخْوَۃِ لِأُم مَعَ الْأُمِّ ، وَلَا عَلٰی ابْنَۃِ ابْنٍ ، مَعَ ابْنَۃِ الصُّلْبِ ، وَلَا عَلٰی أَخَوَاتٍ لِأَبٍ ، مَعَ أُخْتٍ لِأَبٍ وَأُم ، وَلَا عَلَی امْرَأَۃٍ ، وَلَا عَلٰی جَدَّۃٍ ، وَلَا عَلَی زَوْجٍ .
٧٢٩٧: مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک مقدمہ آیا جو ماں اور ماں جائی بہنوں کے سلسلے میں تھا تو انھوں نے ماں جائی بہنوں کو ثلث اور بقیہ تمام مال ماں کو دیا اور فرمایا ماں اس کا عصبہ ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو اور عبداللہ ماں کی طرف سے حقیقی بھائی ماں کے ہوتے ہوئے ان پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اسی طرح حقیقی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اور اسی طرح حقیقی بہن کے ہوئے ہوئے باپ کی طرف سے بہنوں پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اور نہ ہی عورت اور نہ دادی اور نہ خاوند پر میراث کو لوٹاتے تھے۔