۷۳۰۷ : حَدَّثَنَا عَلِیٌّ قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ : مِثْلَہٗ فَہٰذَاہُمْ ہٰؤُلَائِ ، أَہْلُ بَدْرٍ قَدْ وَرَّثُوْا ذَوِی الْأَرْحَامِ بِأَرْحَامِہِمْ ، وَاِنْ لَمْ یَکُوْنُوْا عَصَبَۃً .فَاِنْ کَانَ اِلَی التَّقْلِیْدِ ، فَتَقْلِیْدُ ہٰؤُلَائِ أَوْلَی ، وَاِنْ کَانَ اِلٰی مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ ذَکَرْنَا مَا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَاِنْ کَانَ اِلَی النَّظَرِ ، فَاِنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْعَصَبَۃَ یَرِثُوْنَ اِذَا کَانُوْا ذُکُوْرًا ، وَرَأَیْنَا بَعْضَہُمْ، اِذَا کَانَ لَہٗ مِنَ الْقُرْبِ ، مَا لَیْسَ لِبَعْضٍ ، کَانَ بِذٰلِکَ الْقُرْبِ أَوْلٰی بِالْمِیْرَاثِ ، مِمَّنْ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْہُ .وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ اِذَا لَمْ یَکُنْ لِلْمَیِّتِ عَصَبَۃٌ ، یَرِثُوْنَہُ جَمِیْعًا .فَاِذَا کَانَ بَعْضُہُمْ أَقْرَبَ اِلَیْہِ مِنْ بَعْضٍ ، فَالنَّظَرُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا ، أَنْ یَکُوْنَ مِنْ قَرُبَ مِنْہُ أَوْلٰی بِالْمِیْرَاثِ ، مِمَّنْ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْہُ مِنَ الْمُتَوَفَّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ .فَثَبَتَ بِالنَّظَرِ أَیْضًا ، مَا ذَکَرْنَا ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اخْتِلَافًا بَیْنَہُمْ فِیْ بَعْضِہَا ، وَبَعْدَ اجْتِمَاعِہِمْ عَلَی الْوِرَاثَۃِ بِالْأَرْحَامِ الَّتِیْ لَا تُعَصِّبُ أَہْلَہَا فَمِمَّنِ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنْ ذٰلِکَ فِیْ مِیْرَاثِ ذَوِی الْأَرْحَامِ دُوْنَ الْمَوَالِیْ، وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِی ، وَعَبْدِ اللّٰہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خِلَافُ ذٰلِکَ .
٧٣٠٧: ابراہیم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ یہ بدری صحابہ کرام ہیں کہ جنہوں نے ذوی الارحام کو رحم کی وجہ سے وارث قرار دیا اگرچہ وہ عصبہ نہ ہوں۔ پس اگر تقلید کی بات ہے تو ان حضرات کی تقلید اولیٰ ہے اور اگر روایات کو پیش نظر رکھنا ہو تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم نے روایات اس باب میں نقل کردیں۔ اگر نظر و فکر کا لحاظ کرنا ہو تو لیجئے ہم نے دیکھا کہ عصبہ اس وقت وارث بنتا ہے جبکہ مذکر ہو۔ اور ہم ان عصبات کو دیکھتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک قریب ہوتا ہے اس قرابت سے جو دوسرے کو حاصل نہیں تو وہ قرب کی وجہ سے میراث کا زیادہ حقدار ہے اس کے مقابلے میں جو کہ اس سے دور ہے۔ اور مسلمانوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب میت کا عصبہ نہ ہو تو تمام مسلمان اس کے وارث بن جاتے۔ پس جبکہ ان میں سے بعض دوسروں کی بنسبت اس سے قریب تر ہیں تو نظر کا تقاضا یہی ہے کہ اقرب کو دی جائے اور اس سے دور والے کو نہ دی جائے۔ پس نظر سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ میراث اقرب کو دی جائے گی یہی ہمارے ائمہ حضرات ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ہم نے صحابہ کرام (رض) سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں سے بعض میں ان کا اختلاف ذکر کیا ہے لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ عصبہ نہ ہونے کے باوجود قرابت وراثت کا باعث ہے۔ جن حضرات کو اس سلسلہ میں اختلاف ہے ان میں سے بعض نے تو قرابت داروں کی وراثت میں اختلاف کیا اور آزاد کردہ غلاموں کے متعلق اختلاف نہیں کیا۔ ہم نے یہ بات حضرت عمر ‘ علی ‘ ابن مسعود (رض) سے نقل کی ہے اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف بھی مروی روایات ہیں ‘ ملاحظہ ہوں۔
حاصل : یہ بدری صحابہ کرام ہیں کہ جنہوں نے ذوی الارحام کو رحم کی وجہ سے وارث قرار دیا اگرچہ وہ عصبہ نہ ہوں۔ پس اگر تقلید کی بات ہے تو ان حضرات کی تقلید اولیٰ ہے اور اگر روایات کو پیش نظر رکھنا ہو تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم نے روایات اس باب میں نقل کردیں۔
اوّل نظر طحاوی (رح) :
اگر نظر و فکر کا لحاظ کرنا ہو تو لیجئے ہم نے دیکھا کہ عصبہ اس وقت وارث بنتا ہے جبکہ مذکر ہو۔ اور ہم ان عصبات کو دیکھتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک قریب ہوتا ہے اس قرابت سے جو دوسرے کو حاصل نہیں تو وہ قرب کی وجہ سے میراث کا زیادہ حقدار ہے اس کے مقابلے میں جو کہ اس سے دور ہے۔ اور مسلمانوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب میت کا عصبہ نہ ہو تو تمام مسلمان اس کے وارث بن جاتے۔
پس جبکہ ان میں سے بعض دوسروں کی بنسبت اس سے قریب تر ہیں تو نظر کا تقاضا یہی ہے کہ اقرب کو دی جائے اور اس سے دور والے کو نہ دی جائے۔ پس نظر سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ میراث اقرب کو دی جائے گی یہی ہمارے ائمہ حضرات ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
اختلاف کی نوعیت :
ہم نے صحابہ کرام (رض) سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں سے بعض میں ان کا اختلاف ذکر کیا ہے لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ عصبہ نہ ہونے کے باوجود قرابت وراثت کا باعث ہے۔ جن حضرات کو اس سلسلہ میں اختلاف ہے ان میں سے بعض نے تو قرابت داروں کی وراثت میں اختلاف کیا اور آزاد کردہ غلاموں کے متعلق اختلاف نہیں کیا۔
ہم نے یہ بات حضرت عمر ‘ علی ‘ ابن مسعود (رض) سے نقل کی ہے اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف بھی مروی روایات ہیں ‘ ملاحظہ ہوں۔