۷۳۲۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : أَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیْ عَمْرِو الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، مِثْلَہٗ۔ وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَہُ الْمَوْلَی الْأَسْفَلَ‘ لِفَقْرِہٖ، کَمَا لِلْاِمَامِ أَنْ یَفْعَلَ ذٰلِکَ ، فِیْمَا فِیْ یَدِہٖ مِنَ الْأُمُوْرِ الَّتِیْ لَا رَبَّ لَہَا. وَقَدْ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِیْ عِمْرَانَ یَذْکُرُ أَنَّ ہٰذَا التَّأْوِیْلَ الْآخَرَ ، قَدْ رُوِیَ عَنْ یَحْیٰی بْنِ آدَمَ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، مَا ذَکَرْنَا ، لَمْ یَکُنْ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْمِلَہٗ عَلٰی تَأْوِیْلٍ مِنْہَا ، اِلَّا بِدَلِیْلٍ یَدُلُّہٗ عَلَیْہٖ، مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ، أَوْ مِنْ سُنَّۃِ رَسُوْلِہٖ ، أَوْ مِنْ اِجْمَاعٍ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ نَحْوٍ مِنْ ہٰذَا۔
٧٣٢٢: سلمہ بن کھیل نے ابو عمرو شیبانی سے انھوں نے حضرت عبداللہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس میں احتمال یہ ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مولیٰ اسفل کے فقیر ہونے کی وجہ سے اس کو یہ مال بطور خوراک دیا ہو جس طرح کہ امام کو یہ حق حاصل ہے کہ جن مالوں کا کوئی مالک نہ ہو وہ فقراء کو دیا جائے میں نے یہ بات ابن ابی عمران سے بھی سنی اور یحییٰ بن آدم سے بھی یہ مروی ہے جب اس روایت میں احتمال ہے تو پھر اس کو بطور دلیل کے کسی کو استعمال کا حق نہیں سوائے کسی اور دلیل کی معاونت کے جو کہ کتاب اللہ سنت رسول یا اجماع سے ہو اس طرح کی روایات بھی احادیث میں وارد ہیں۔