۷۳۶ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ ؛ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، وَمِمَّنْ ذَہَبَ إِلَیْہِ، أَبُوْ یُوْسُفَ، فَقَالُوْا : أَلَا نَرٰی بَأْسًا أَنْ یَنَامَ الْجُنُبُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَوَضَّأَ لِأَنَّ التَّوَضُّؤَ لَا یُخْرِجُہٗ مِنْ حَالِ الْجَنَابَۃِ إِلٰی حَالِ الطَّہَارَۃِ . وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاۃِ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ، وَقَالُوْا : ھٰذَا الْحَدِیْثُ غَلَطٌ لِأَنَّہٗ حَدِیْثٌ مُخْتَصَرٌ، اخْتَصَرَہٗ أَبُوْ إِسْحَاقَ، مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ فَأَخْطَأَ فِی اخْتِصَارِہٖ إِیَّاہٗ .وَذٰلِکَ
٧٣٦: ابو اسحاق نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔ اس طرف علماء کی ایک جماعت گئی ہے جن میں امام ابو یوسف (رح) بھی شامل ہیں ‘ ان کا کہنا یہ ہے کہ جنبی کو بلا وضو سونے میں چنداں حرج نہیں کیونکہ اس کا یہ وضو سے جنابت اسے طہارت کی طرف نہیں لے جاسکتا۔ دوسری جماعت علماء نے ان سے اختلاف کراتے ہوئے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ سونے سے پہلے نماز والا وضو کرے۔ انھوں نے اس روایت کو غلط قرار دیا کیونکہ یہ مختصر ہے۔ ابو اسحق نے اس کو طویل روایت سے مختصر کرنے میں غلطی کی ہے۔
تخریج : ترمذی ١؍٣٢۔
حاصل روایات : ان چھ روایات سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پانی چھونے کے بغیر سونا ثابت ہوتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ جنابت والے کو وضو کا فائدہ نہیں کیونکہ وہ اسے حالت جنابت سے نکال نہیں سکتا۔
فریق دوم کا مؤقف :
وضو مستحب ہے اس کی شاہد یہ روایات ہیں۔
فریق اوّل کا جواب :
نمبر ١: حدیث جس کو ابو اسحاق نے مختصر نقل کیا ہے اس اختصار میں غلطی کی ہے تفصیلی روایت ہم پیش کرتے ہیں۔
روایت ابو اسحاق بالتفصیل یہ ہے۔