hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 761

.

الطحاوي

761
Al Tahawi
۷۶۱ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (اِذَا أَجْنَبَ الرَّجُلُ، وَأَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَشْرَبَ أَوْ یَنَامَ، غَسَلَ کَفَّیْہِ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْہَہٗ وَذِرَاعَیْہِ، وَغَسَلَ فَرْجَہٗ، وَلَمْ یَغْسِلْ قَدَمَیْہِ) فَھٰذَا وُضُوْئٌ غَیْرُ تَامٍّ .وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فِیْ ذٰلِکَ بِوُضُوْئٍ تَامٍّ، فَلَا یَکُوْنُ ھٰذَا إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ النَّسْخُ لِذٰلِکَ عَنْہٗ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِی الرَّجُلِ یُجَامِعُ أَہْلَہٗ ثُمَّ یُرِیْدُ الْمُعَاوَدَۃَ۔
٧٦١: نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر (رض) کہتے ہیں جب آدمی جنابت کی حالت میں ہو اور کھانے پینے کا ارادہ کرے یا سونا چاہے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوئے اور مضمضمہ اور استنشاق کرلے اور اپنے چہرے کو دھوئے اور بازو دھوئے اور شرمگاہ کو دھوئے اور پاؤں نہ دھوئے۔ یہ وضو کامل نہیں ہے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں مکمل وضو کا حکم فرمایا ہے اور یہ بات اسی وقت درست رہ سکتی ہے جب کہ ان کے ہاں اس کا نسخ ثابت ہوچکا ہو حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جو اپنی زوجہ سے دوبارہ جماع کرنا چاہتا ہے ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٦٠؍٦١۔
اس روایت میں ابن عمر (رض) نے جس وضو کا ذکر کیا وہ غیر تام ہے کیونکہ وضو کی تکمیل تو پاؤں دھونے سے ہوتی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو وضو تام کا حکم فرمایا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے ہاں وضو والا حکم منسوخ ہوچکا تبھی تو وضو سے وہ ہاتھ منہ دھونا لغوی وضو مراد لے رہے ہیں ورنہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے پس اس سے استدلال درست نہ ہوا۔
مسئلہ نمبر ٣: جنابت والا جماع کی طرف دوبارہ عود کرے تو آیا اس کو وضو لازم ہے ابن سیرین اور حسن بصری اور ظاہریہ کے ہاں واجب ہے یہی فریق اوّل ہے اور ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کے ہاں لازم نہیں تقاضا نظافت ہے اور مستحب ہے۔