۷۶۳ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَمَرَ بِھٰذَا فِیْ حَالِ مَا کَانَ الْجُنُبُ لَا یَسْتَطِیْعُ ذِکْرَ اللّٰہِ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ فَأَمَرَ بِالْوُضُوْئِ لِیُسَمِّیَ عِنْدَ جِمَاعِہٖ، کَمَا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، ثُمَّ رَخَّصَ لَہُمْ أَنْ یَتَکَلَّمُوْا بِذِکْرِ اللّٰہِ وَہُمْ جُنُبٌ، فَارْتَفَعَ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یُجَامِعُ ثُمَّ یَعُوْدُ وَلَا یَتَوَضَّأُ) ، قَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْبَابِ .فَھٰذَا، عِنْدَنَا نَاسِخٌ لِذٰلِکَ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہٗ کَانَ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَائِہِ، فَکَانَ یَغْتَسِلُ کُلَّمَا جَامَعَ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ .
٧٦٣: شعبہ نے عاصم سے انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ پس یہ بھی درست ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت دیا ہو جب جنابت والا بلا وضو ذکر نہ کرسکتا تھا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا حکم فرمایا جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث کے علاوہ دوسری روایت میں یہ بات فرمائی ہے۔ پھر ان کو ذکر اللہ زبان سے کرنے کی اجازت ملی جبکہ وہ حالت جنابت میں ہوں۔ پس یہ حکم اٹھ گیا اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماع کرتے پھر دوبارہ جماع کرتے اور اس کے لیے وضو نہ کرتے۔ ہم نے یہ روایت اس باب کے علاوہ اور کسی مقام پر ذکر کردی ہے۔ پس یہ ہمارے نزدیک اس کو نسخ کرنے والی ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ اپنی تمام ازواج (رض) کے ہاں چکر لگاتے اور جماع کے بعد غسل کرتے اور یہ روایت اس سلسلہ میں مذکور ہے۔
فریق اوّل کو جواب : یہ اس زمانے کی بات ہو کہ جب جنابت والے کو ذکراللہ کی اجازت نہ تھی بلکہ اس کے لیے وضو کا حکم تھا جیسا کہ کئی احادیث میں موجود ہے پھر جنابت کی حالت میں کلام اور ذکراللہ کی اجازت دے دی گئی آیت وضو سے یہ چیزیں منسوخ ہوگئیں۔
نمبر ٢: یہ بھی ممکن ہے کہ وضو سے لغوی معنی مراد ہو پس اس سے وجوبِ وضو پر استدلال درست نہیں۔
فریق ثانی کی دلیل روایت حضرت عائشہ (رض) :
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج سے جماع کرتے پھر دوبارہ کرتے اور وضو نہ کرتے پس یہ روایت حضرت عائشہ (رض) اور ابو سعید الخدری (رض) کی روایت کے لیے ناسخ بن جائے گی۔
ایک اعتراض : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مروی ہے کہ آپ اپنی ازواج سے قربت فرماتے اور ہر ایک سے جماع کے لیے الگ غسل فرماتے۔ وہ روایت یہ ہے۔