۷۶۵: وَحَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبَ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِہِ سَلْمَیْ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ أَنَّ (رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا طَافَ عَلٰی نِسَائِہٖ فِیْ یَوْمٍ، فَجَعَلَ یَغْتَسِلُ عِنْدَ ھٰذِہٖ وَعِنْدَ ھٰذِہٖ. فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لَوْ جَعَلْتہ غُسْلًا وَاحِدًا فَقَالَ ھٰذَا أَزْکٰی وَأَطْہَرُ وَأَطْیَبُ) قِیْلَ لَہٗ : فِیْ ھٰذَا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ عَلَی الْوُجُوْبِ، لِقَوْلِہٖ (ھٰذَا أَزْکَی وَأَطْیَبُ وَأَطْہَرُ) .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہٗ طَافَ عَلٰی نِسَائِہٖ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ .
٧٦٥: سلمیٰ رافع (رض) سے نقل کرتی ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ایک دن میں اپنی تمام ازواج سے قربت فرماتے تو ہر ایک کے ہاں غسل فرماتے۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی غسل فرماتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ زیادہ پاکیزگی اور طہارت و ستھرائی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٨٥‘ نمبر ٢١٩‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ١٠٢‘ مسند احمد ٦؍٨‘ ١٠‘ ٢٩١۔
الجواب نمبر ١: پس اس کے جواب میں کہا جائے گا یہاں تو وجوب کی دلالت موجود نہیں بلکہ ازکی ‘ اطہر ‘ اطیب کے صیغے خود استحباب کو ظاہر کر رہے ہیں۔
نمبر ٢: اور یہ بات خود متعدد روایات سے ثابت ہے کہ آپ نے تمام عورتوں سے جماع فرمانے کے بعد آخر میں ایک غسل فرمایا ہے روایات ملاحظہ ہوں۔