۷۷۴ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، وَعَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَا : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ، ح .
٧٧٤: روح بن عبادہ نے اپنی سند سے ابو محذورہ (رض) سے روایت نقل کی ہے۔
خلاصہ الزام : اذان کے کلمات کے متعلق بحث کہ ان کی تعداد کتنی ہے ۔
مسئلہ نمبر : امام مالک حسن بصری اور اہل مدینہ کے ہاں کلمات اذان سترہ ہیں پہلی تکبیر دو مرتبہ اور شہادتین میں ترجیع۔ نمبر ٢ امام شافعی (رح) کے ہاں انیس پہلی تکبیر چار مرتبہ اور شہادتین میں ترجیع۔ نمبر ٣ ابوحنیفہ و حنابلہ کے ہاں کلمات پندرہ تکبیر اول چار مرتبہ مگر شہادتین میں ترجیع نہیں۔
دوسرا مسئلہ : کلمات اذان کی کیفیت اول تکبیر دو مرتبہ بقیہ اسی طرح ہے یہ امام مالک و حسن بصری و ابن سیرین کا مسلک ہے۔ نمبر ٢ ابتداء کلمات میں چار مرتبہ تکبیر یہ امام ابوحنیفہ (رح) شافعی (رح) و جمہور فقہاء کا مسلک ہے۔
تیسرا مسئلہ : شہادتین میں ترجیع ہے یہ امام مالک و شافعی و حسن بصری و اہل مدینہ کا مسلک ہے۔ نمبر ٢ ترجیع نہیں احناف و حنابلہ کا یہی مسلک ہے۔
مسئلہ اوّل :
فریق اوّل امام مالک حسن بصری (رح) کا مؤقف یہ ہے کہ شروع میں تکبیر دو مرتبہ کہی جائے گی کل کلمات اذان سترہ ہوں گے شہادتین کو چار مرتبہ پڑھیں گے۔