۷۷۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ وَعَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَا : ثَنَا رَوْحٌ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَیْرِیْزٍ حَدَّثَہٗ، وَکَانَ یَتِیمًا فِیْ حِجْرِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ (أَبُوْ مَحْذُوْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَہُ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاۃِ .فَقُمْت بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقٰی عَلَیَّ التَّأْذِیْنَ ہُوَ بِنَفْسِہٖ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ التَّأْذِیْنِ الَّذِیْ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، فَقَالُوْا: ھٰکَذَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُؤَذَّنَ .وَخَالَفَہُمْ آخَرُوْنَ فِیْ مَوْضِعَیْنِ .أَحَدُہُمَا : اِبْتِدَائُ الْأَذَانِ - فَقَالُوْا یَنْبَغِیْ أَنْ یُقَالَ فِیْ أَوَّلِ الْأَذَانِ (اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ) .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٧٧٦: عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن محیریز نے مجھے بیان کیا اور یہ ابو محذورہ کی سرپرستی میں یتیم بچہ تھا کہ ابو محذورہ (رض) نے کہا کہ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اٹھو اور نماز کی اذان دو میں آپ کی خدمت میں کھڑا ہوا اور آپ بذات خود کلمات اذان کہلواتے جا رہے تھے پس اسی طرح نقل کی جو روایت بالا میں موجود ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں اور انھوں نے فرمایا کہ اسی طرح اذان مناسب ہے جیسا کہ روایت ابومحذورہ میں مذکور ہے۔ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کیا اور اختلاف کے صرف دو مواقع ہیں :! اذان کی ابتداء میں اللہ اکبر چار چار مرتبہ پڑھا جائے گا اور ان کی دلیل یہ روایت ہے۔
تخریج : ابو داؤد ١؍٧٣۔
حاصل روایات : ان روایات بالا سے ثابت ہوا کہ اذان کے کلمات سترہ ہیں جن میں شہادتین میں ترجیع ہے اور ابتدائی کلمات تکبیر دو بار ہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف :
امام شافعی (رح) نے فرمایا اذان کی ابتداء میں چار مرتبہ اللہ اکبر اور شہادتین میں ترجیع ‘ کی ابتداء میں چار مرتبہ تکبیر کی مستدل روایات۔