hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 789

.

الطحاوي

789
Al Tahawi
۷۸۹ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِیُّ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوْتِرَ الْاِقَامَۃَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، فَقَالُوْا : ھٰکَذَا الْاِقَامَۃُ تُفْرَدُ مَرَّۃً مَرَّۃً .وَخَالَفَہُمْ آخَرُوْنَ فِیْ حَرْفٍ وَاحِدٍ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْا : إِلَّا قَوْلَہٗ (قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَإِنَّہٗ یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یُثَنّٰی ذٰلِکَ مَرَّتَیْنِ) وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٧٨٩: ابو قلابہ نے نقل کیا کہ انس (رض) کہتے ہیں کہ بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کو جفت اور اقامت کو طاق کہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ‘ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اقامت ایک ایک مرتبہ کہی جائے گی۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بقیہ اقامت تو تمہاری طرح ہے مگر قدقامت الصلوٰۃ کو دو مرتبہ کہا جائے گا ‘ ان کی مستدل یہ روایات ہیں۔
تخریج : ابو داؤد ١؍٧٥۔
حاصل روایات : اذان کے کلمات جب جفت ہیں اقامت کے کلمات طاق ہوں گے اور قدقامت الصلاۃ پھر ایک مرتبہ ملا کر دس کلمات بنیں گے پس یہی مسنون ہے۔
فریق دوم کا مؤقف :
یہ تمام کلمات فریق اوّل کی طرح ہیں البتہ قدقامت الصلاۃ اقامت کی وجہ سے دو مرتبہ کہے جانے کا مستحق ہے جیسا مندرجہ ذیل روایات سے ثابت ہے۔