۸۰۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ یُؤَذِّنُ مَثْنٰی مَثْنٰی‘ وَیُقِیْمُ مَثْنٰی .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مُجَاہِدٍ فِیْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدِ ڑ الْقَطَّانُ قَالَ : ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِیْفَۃَ، عَنْ مُجَاہِدٍ فِی الْاِقَامَۃِ مَرَّۃً مَرَّۃً إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ اسْتَخَفَّہُ الْأُمَرَائُ فَأَخْبَرَ مُجَاہِدٌ أَنَّ ذٰلِکَ مُحْدَثٌ وَأَنَّ الْأَصْلَ ہُوَ التَّثْنِیَۃُ .
٨٠٨: عبدالعزیز بن رفیع نے کہا کہ میں نے ابو محذورہ (رض) کو سنا کہ وہ مثنیٰ مثنیٰ اذان اور اقامت کہتے تھے۔
اور یہی بات صحابہ کرام (رض) کے علاوہ جلیل القدر تابعی مجاہد سے بھی ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو۔
یحییٰ بن سعید ‘ مجاہد (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ اقامت ایک ایک مرتبہ یہ امراء نے تخفیف کی ہے اور یہ تو ایجاد کردہ چیز ہے اصل اس میں مثنیٰ مثنیٰ یعنی دو دو مرتبہ ہے۔
حاصل روایات : عموماً اپنی طرف سے نظر پیش کی جاتی ہے یہ پہلا موقعہ ہے کہ فریق مخالف کی طرف سے نظر پیش کر کے پھر اس کی نظر سے تردید کی ہے اور عموماً باب کے آخر میں نظر طحاوی لائے ہیں جبکہ یہاں باب کے آخر میں تائیدی روایات لائے۔