۸۲۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیِّ، عَنْ سَمُرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْفَجْرَ یُؤَذَّنُ لَہَا قَبْلَ دُخُوْلِ وَقْتِہَا، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ، فَمَنْ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُؤَذَّنَ لِلْفَجْرِ أَیْضًا إِلَّا بَعْدَ دُخُوْلِ وَقْتِہَا، کَمَا لَا یُؤَذَّنُ لِسَائِرِ الصَّلَوَاتِ إِلَّا بَعْدَ دُخُوْلِ وَقْتِہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ فَقَالُوْا : إِنَّمَا کَانَ أَذَانُ بِلَالٍ الَّذِیْ کَانَ یُؤَذِّنُ بِہٖ بِلَیْلٍ، لِغَیْرِ الصَّلَاۃِ .فَذَکَرُوْا۔
٨٢٨: سوادہ القشیری نے سمرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کے ہاں فجر کی اذان اس کا وقت داخل ہونے سے پہلے دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ان روایات کو اپنا مستدل بنایا ہے۔ ان حضرات میں امام ابو یوسف (رح) بھی شامل ہیں۔ مگر دوسرے حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ فجر کے لیے بھی وقت کے آجانے کے بعد اذان دی جائے جیسا کہ دیگر نمازوں کے لیے دخولِ وقت کے بعد اذان دی جاتی ہے اور انھوں نے دلیل پیش کرتے ہوئے حضرت بلال (رض) کی اذان والی روایت کہ وہ رات کو اذان دیتے تھے کا جواب یہ دیا کہ وہ نماز کے لیے نہ تھی ‘ روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٧‘ مسلم ١؍٣٥٠‘ المعجم الکبیر ٧؍٢٣٦۔
حاصل روایات : ان تمام روایات میں اکثر روایات میں بلال (رض) کے متعلق رات کو اذان دینا اور ایک روایت میں ابن ام مکتوم کا رات کو اذان دینا منقول ہے یہ اذان فجر تھی اور وقت سے پہلے دی جاتی تھی پس اس سے ثابت ہوگیا کہ فجر کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان فجر جائز ہے امام ابو یوسف (رح) اور دیگر ائمہ ثلاثہ اس بات کے قائل ہوئے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اذان فجر بھی وقت سے پہلے درست نہیں جیسا کہ دیگر نمازوں کے اوقات داخل ہونے پر وہ اذانیں دی جاتی ہیں۔
فریق اوّل کا جواب :
حضرت بلال کی وہ اذان نماز کے لیے نہ تھی بلکہ دیگر مقاصد کے لیے تھی اور مندرجہ ذیل روایات سے اس کی نشاندہی ہوتی ہے۔