۸۳۲ : وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرٌ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ، عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖ، فَإِنَّہٗ یُنَادِیْ، أَوْ یُؤَذِّنُ، لِیَرْجِعَ غَائِبُکُمْ، وَلِیَنْتَبِہَ قَائِمُکُمْ) .وَقَالَ : (لَیْسَ الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَجَمَعَ أُصْبُعَیْہِ وَفَرَّقَہُمَا) .وَفِیْ (حَدِیْثِ زُہَیْرٍ خَاصَّۃً وَ رَفَعَ زُہَیْرٌ یَدَہٗ وَخَفَضَہَا حَتّٰی یَقُوْلَ ھٰکَذَا، أَوْ مَدَّ زُہَیْرٌ یَدَیْہِ عَرْضًا .فَقَدْ أَخْبَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ ذٰلِکَ النِّدَائَ کَانَ مِنْ بِلَالٍ، لِیَنْتَبِہَ النَّائِمُ وَلِیَرْجِعَ الْغَائِبُ لَا لِلصَّلَاۃِ) . وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا۔
٨٣٢: ابو عثمان نہدی نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری سے نہ ہرگز نہ روکے وہ اس لیے اذان دیتے ہیں تاکہ تمہارا غائب گھر واپس لوٹ آئے اور قیام کرنے والا خبردار ہوجائے اور کہا کیا فجر یا صبح اس طرح اور اس طرح نہیں ہے اور انھوں نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور جدا کیا ” زہیر کی روایت میں خاص طور پر یہ الفاظ ہیں “ : ” رَفَعَ زُہَیْرٌ یَدَہٗ وَخَفَضَہَا حَتّٰی یَقُوْلَ ھٰکَذَا، أَوْ مَدَّ زُہَیْرٌ یَدَیْہِ عَرْضًا “ زہیر نے عرض میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دراز کیا (صبح صادق کو سمجھانے کے لئے۔
حاصل روایت : اس روایت سے صاف معلوم ہوگیا کہ اذان بلال اس لیے تھی تاکہ سونے والا بیدار ہوجائے اور جو ڈیوٹیوں پر مقرر ہیں وہ واپس لوٹ آئیں نماز کے لیے نہ تھی۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٣‘ مسلم فی الصیام نمبر ٣٩‘ ابو داؤد فی الصوم باب ١٨‘ نمبر ٢٣٤٧‘ نسائی فی الاذان باب ١١‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٤؍٢١٨۔
ابن عمر (رض) سے بھی روایات ہیں جو اس پر دال ہیں۔