hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 834

.

الطحاوي

834
Al Tahawi
۸۳۴ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ (بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَرْجِعَ فَنَادٰی أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ فَرَجَعَ فَنَادٰی أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ) .فَھٰذَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَرْوِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذَکَرْنَا، وَہُوَ مِمَّنْ قَدْ رَوٰی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ (إِنَّ بِلَالًا یُنَادِیْ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ) .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ، أَنَّ مَا کَانَ مِنْ نِدَائِہٖ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مِمَّا کَانَ مُبَاحًا لَہٗ، ہُوَ لِغَیْرِ الصَّلَاۃِ، وَأَنَّ مَا أَنْکَرَہٗ عَلَیْہِ اِذْ فَعَلَہٗ قَبْلَ الْفَجْرِ، کَانَ لِلصَّلَاۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا عَنْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا۔
٨٣٤: نافع ‘ ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال (رض) نے ایک مرتبہ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دی تو ان کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ وہ دوبارہ لوٹ کر یہ اعلان کردیں : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ بندے کو نیند میں معلوم نہیں رہا چنانچہ انھوں نے لوٹ کر یہ اعلان کیا : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ ۔ یہ ابن عمر (رض) ہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ نقل کر رہے ہیں حالانکہ وہ ان حضرات میں سے ہیں جن کی روایت یہ ہے کہ بلال (رض) رات کو اذان دیتے ہیں۔ پس تم کھاتے اور پیتے رہو ‘ یہاں تک کہ ابن امّ مکتوم (رض) اذان دیں۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ طلوع صبح صادق سے پہلے جس اذان کو مباح قرار دیا گیا تھا وہ نماز کے علاوہ دیگر عمل کے لیے تھی اور جس اذان کے طلوع فجر سے پہلے ہوجانے پر آپ نے اعتراض کیا وہ نماز کے لیے تھی اور ابن عمر (رض) نے حضرت حفصہ (رض) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٤٠‘ نمبر ٥٣٢‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٣٥‘ نمبر ٢٠٣‘
یہی ابن عمر (رض) یہاں یہ روایت کر رہے ہیں انھوں نے باب کے شروع میں وہ روایات نقل کی ہیں جن میں یہ مذکور ہے : ”إِنَّ بِلَالًا یُنَادِیْ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ “ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کی جو اذان طلوع فجر سے پہلے تھی اس کا انھیں حکم ملا تھا وہ نماز کے لیے نہ تھی اور وہ اذان جس کے متعلق نکیر کی گئی وہ فجر کے لیے تھی جس کو وہ پہلے غلطی سے دے بیٹھے تو انھیں غلطی کا اعلان کرنے کا حکم ہوا بلکہ حضرت ابن عمر (رض) نے حضرت حفصہ (رض) سے بھی یہ نقل کیا ہے۔