۸۳۷ : وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا شِہَابُ بْنُ عَبَّادِ ڑ الْعَبْدِیُّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا یَغُرَّنَّکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ فَإِنَّ فِیْ بَصَرِہٖ شَیْئًا) .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ بِلَالًا کَانَ یُرِیْدُ الْفَجْرَ فَیُخْطِئُہُ لِضَعْفِ بَصَرِہِ .فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَعْمَلُوْا عَلٰی أَذَانِہٖ، اِذْ کَانَ مِنْ عَادَاتِہِ الْخَطَأُ، لِضُعْفِ بَصَرِہٖ .
٨٣٧: قتادہ نے انس (رض) سے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کو اذان بلال سے دھوکا نہ لگ جائے ان کی بصارت میں کچھ کمزوری ہے۔ اس سے یہ دلالت مہیا ہوگئی کہ بلال (رض) طلوعِ صبح صادق کا ارادہ فرماتے۔ نظر کی کمزوری سے ‘ ان کی نظر کبھی خطاء کر جاتی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اس کی اذان کے مطابق عمل نہ کریں کیونکہ نظر کی کمزوری سے خطاء ان کی عادت بن چکی ہے۔
حاصل روایات : اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ بلال تو اپنی طرف سے فجر کا ارادہ فرماتے مگر ضعف بصر کی وجہ سے بسا اوقات خطا کر جاتے اسی لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اذان پر عمل نہ کرنے کا حکم دیا کیونکہ ضعف بصر کی وجہ سے خطا ان کی عادت بن گئی تھی۔