۸۴۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ وَیُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : (اِذَا سَمِعْتُمَ الْمُؤَذِّنَ) وَفِیْ حَدِیْثِ مَالِکٍ (النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ) ، وَفِیْ حَدِیْثِ مَالِکٍ (مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ) .
٨٤٦: سعید الخدری (رض) نے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ جب تم مؤذن کو سنو (مالک کی روایت میں مؤذن کی بجائے نداء کا لفظ ہے) تو تم اسی طرح کہو جیسا وہ کہتا ہے۔ مالک کی روایت میں المؤذن کا لفظ زائد ہے۔
تخریج : بخاری فی الذان باب ٧‘ مسلم فی الصلاۃ نمبر ١٠‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٤٠‘ والمناقب باب ١‘ نسائی فی الاذان باب ٣٣‘ ٣٥؍٣٧‘ ابن ماجہ فی الذان باب ٤‘ نمبر ٧١٩‘ مالک فی النداء نمبر ٢‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٣٧‘ مسند احمد ١؍١٢٠‘ ٣؍٨‘ ٤؍٩٢‘ ٩٣‘ ٤؍٣٢٦‘ ابن ابی شیبہ کتاب الاذان والاقامۃ ١؍٢٢٧ عبرانی فی المعجم الکبیر ٢٣؍٢٢٨۔
خلاصہ الزام : مؤذن کا جواب انہی کلمات سے دیا جائے یا کچھ کلمات کے تفاوت سے اور یہ جواب واجب ہے یا مسنون۔