۸۴۸ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ قَالَ : أَنَا حَیْوَۃُ، قَالَ : أَنَا کَعْبُ بْنُ عَلْقَمَۃَ، أَنَّہٗ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ جُبَیْرٍ مَوْلٰی نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیِّ یَقُوْلُ : إِنَّہٗ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ : إِنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّہٗ مَنْ صَلَّیْ عَلَیَّ صَلَاۃً صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ تَعَالٰی لِیَ الْوَسِیْلَۃَ، فَإِنَّہَا مَنْزِلٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ، وَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ أَنَا ہُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللّٰہَ لِی الْوَسِیْلَۃَ، حَلَّتْ لَہٗ الشَّفَاعَۃُ .)
٨٤٨: عبدالرحمن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کو فرماتے سنا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جب مؤذن کو سنو ! تو اسی طرح کہو جیسا وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو اس لیے کہ جو مجھ پر درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مقام وسیلہ طلب کرو وسیلہ جنت کے ایک مقام کا نام ہے وہ صرف ایک بندے کو جچتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ جس نے میرے لیے وسیلہ مانگا وہ میری شفاعت کا حقدار بن گیا۔
تخریج : روایت ٨٤٦ ملاحظہ کریں۔