hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 851

.

الطحاوي

851
Al Tahawi
۸۵۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّیْثِیُّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ یُؤَذِّنُ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَقَالَتِہٖ)، أَوْ کَمَا قَالَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : یَنْبَغِیْ لِمَنْ سَمِعَ الْأَذَانَ أَنْ یَقُوْلَ کَمَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ، حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ أَذَانِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا لَیْسَ لِقَوْلِہٖ (حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ) مَعْنًی، لِأَنَّ ذٰلِکَ إِنَّمَا یَقُوْلُہُ الْمُؤَذِّنُ لِیَدْعُوَ بِہِ النَّاسَ إِلَی الصَّلَاۃِ وَإِلَی الْفَلَاحِ .وَالسَّامِعُ لَا یَقُوْلُ مَا یَقُوْلُ مِنْ ذٰلِکَ عَلَی جِہَۃِ دُعَائِ النَّاسِ إِلٰی ذٰلِکَ إِنَّمَا یَقُوْلُہٗ عَلٰی جِہَۃِ الذِّکْرِ، وَلَیْسَ ھٰذَا مِنَ الذِّکْرِ .فَیَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَجْعَلَ مَکَانَ ذٰلِکَ، مَا قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْآثَارِ الْأُخَرِ وَہُوَ (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ) .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہٗ (فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ) حَتّٰی یَسْکُتَ، أَیْ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا ابْتَدَأَ بِہِ الْأَذَانَ مِنَ التَّکْبِیْرِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ حَتّٰی یَسْکُتَ .فَیَکُوْنُ التَّکْبِیْرُ وَالشَّہَادَۃُ ہُمَا الْمَقْصُوْدُ إِلَیْہِمَا بِقَوْلِہٖ (مِثْلَ مَا یَقُوْلُ) وَقَدْ قَصَدَ إِلٰی ذٰلِکَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ .
٨٥١: محمد بن عمرو اللیثی اپنے باپ دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم معاویہ (رض) کے پاس تھے تو مؤذن نے اذان دی تو معاویہ (رض) کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جب تم مؤذن کو اذان دیتا سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہے انھوں نے مقالتہ کا لفظ فرمایا یا اسی طرح کا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ جو شخص اذان سنے اسے اسی طرح کہنا چاہیے جس طرح مؤذن کہے یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہو۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ فلاحین کے کہنے کا مطلب نہیں کیونکہ مؤذن تو یہ کلمات لوگوں کو نماز و فلاح کی طرف بلانے کے لیے کہتا ہے اور سننے والا تو بلانے کی نیت سے نہیں کہتا بلکہ بطور ذکر کے کہتا ہے اور یہ ذکر نہیں ہے۔ پس مناسب یہ ہے کہ اس کی جگہ وہ کہا جائے جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دیگر روایات میں وارد ہوا ہے اور وہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ اور ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ” فقولوا مثل ما یقول “ کی مراد یہ ہو کہ وہ کلمات کہو جن سے مؤذن نے ابتداء کی ہے اور وہ تکبیر و شہادتین ہیں یہاں تک کہ وہ ان سے خاموش ہوجائے پس تکبیر اور شہادت مثل ” مایقول “ سے مراد ہیں اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ان کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔
تخریج : اس کی تخریج نمبر ٨٤٦ میں ملاحظہ ہو۔ عبدالرزاق ١؍٤٧٩۔
حاصل روایات : ان چھ روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اذان سننے والا مؤذن کے ساتھ ساتھ کہتا جائے یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہو پھر درود شریف اور دعا وسیلہ پڑھے۔
مؤقف فریق نمبر ٢ کی مستدل روایات :
حی علی الصلاۃ ‘ حی علی الفلاح سے مؤذن دوسروں کو نماز و فلاح کی طرف دعوت دے رہا ہے اور یہ دعوت کو سن کر وہی کلمات نہ کہے کیونکہ یہ کلمات ذکر تو نہیں پس مناسب یہ ہے کہ ان کی جگہ وہ کلمات کہے جو دیگر آثار میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہیں اور وہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔
جواب دلیل فریق نمبر ١: قولوا مثل ما یقول حتی یسکت اس سے کلمات تکبیر و شہادت مراد ہیں یہاں تک کہ وہ اذان مکمل کرے باقی یہ کلمات دعوت ہیں ان کی بجائے وہ پڑھے (کہ اس دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق تو ادھر سے ہی حاصل ہوگی) پس مایقول کی مراد مقصودی کلمات تکبیر و شہادت ہیں اور حدیث ابوہریرہ (رض) میں ان کو مقصودی قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ ملاحظہ ہو۔