۸۵۳ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (اِذَا تَشَہَّدَ الْمُؤَذِّنُ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ) .وَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ قَوْلِہِ عِنْدَ ذٰلِکَ (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ) وَفِی الْحَضِّ عَلٰی ذٰلِکَ .
٨٥٣: سعید بن المسیّب نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا جب مؤذن اعلان شہادت کرے تو تم اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے اور لا حول ولا قوۃ کا کلمہ تو اس پر ابھارنے کے لیے ہے۔ پھر وہ روایت جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس وقت لا حول ولا قوۃ پڑھا جائے تو یہ اس پر ابھارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہے۔
تخریج : نسائی فی عمل الیوم واللیلہ ١٥٢‘ ١٥٣‘ ابن ماجہ فی الاذان والسنۃ باب ٤‘ نمبر ٧١٨۔