۸۶ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ ( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْتَسِلُ ہُوَ وَالْمَرْأَۃُ مِنْ نِسَائِہٖ مِنَ الْاِنَائِ الْوَاحِدِ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمْ یَکُنْ فِیْ ھٰذَا عِنْدَنَا حُجَّۃٌ عَلٰی مَا یَقُوْلُ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَا یَغْتَسِلَانِ جَمِیْعًا .وَإِنَّمَا التَّنَازُعُ بَیْنَ النَّاسِ اِذَا ابْتَدَأَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ الْآخَرِ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ فَإِذَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ۔
٨٦ : شعبہ نے عبداللہ بن جابر (رض) کے واسطہ سے انس بن مالک (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج میں ایک عورت ایک برتن سے غسل فرماتے تھے۔ اس کا ثبوت علی بن معبد کی روایت میں مذکور ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں ان روایات میں قول اول کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ غسل اکٹھے کرتے ہوں اور لوگوں کے درمیان نزاع اس بات میں ہے کہ جب ایک ان میں سے دوسرے سے پہلے ابتداء کرے چنانچہ اس سلسلہ میں ہم نے غور کیا۔