۸۷۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ : ثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیْدَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ : قَالَ (سَأَلَ رَجُلٌ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ : صَلِّ مَعِیْ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِیْنَ تَطْلُعُ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ فَیْئُ الْاِنْسَانِ مِثْلَہُ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ، حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ قَبْلَ غَیْبُوْبَۃِ الشَّفَقِ، ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ فَیْئُ الْاِنْسَانِ مِثْلَہٗ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ فَیْئُ الْاِنْسَانِ مِثْلَیْہِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَیْبُوْبَۃِ الشَّفَقِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ ثُلُثُ اللَّیْلِ وَقَالَ بَعْضُہُمْ شَطْرُ اللَّیْلِ) .
٨٧١: عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت نقل کی کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اوقات نماز کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا میرے ساتھ نماز ادا کرو پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی جبکہ فجر طلوع ہوئی پھر ظہر کی نماز ادا کی جبکہ سورج ڈھل گیا پھر عصر کی نماز ادا کی جبکہ انسان کا سایہ اس کی مثل ہوگیا پھر مغرب کی نماز ادا کی جب کہ سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے ادا کی پھر صبح کی نماز خوب روشن کر کے ادا کی پھر ظہر کی نماز ادا کی جبکہ ہر انسان کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا پھر عصر کی نماز ادا کی جب انسانی سایہ اس کے دو مثل ہوگیا پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے ادا کی پھر نماز عشاء ادا فرمائی بعض روات نے ثلث لیل اور بعض نے شطراللیل کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
تخریج : نسائی فی المواقیت باب ٧‘ مسند احمد ٣؍٣٣٠‘ ٣٣١۔