۸۸۲ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالُوْا : فَلَمَّا کَانَ مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الْعَصْرِ مَا ذَکَرْنَا فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ مُدْرِکًا لَہَا، ثَبَتَ أَنَّ آخِرَ وَقْتِہَا ہُوَ غُرُوْبُ الشَّمْسِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .فَکَانَ مِنْ حُجَّۃِ مَنْ ذَہَبَ إِلٰی أَنَّ آخِرَ وَقْتِہَا إِلٰی أَنْ تَتَغَیَّرَ الشَّمْسُ، مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَہْیِہٖ عَنِ الصَّلَاۃِ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَمِنْ ذٰلِکَ۔
٨٨٢: عروہ حضرت عائشہ (رض) سے اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ان آثار میں عصر کی ایک رکعت کا وقت پانے والوں کو عصر کا مدرک قرار دے دیا گیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ عصر کا آخری وقت غروب آفتاب ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور امام محمد (رح) کا قول ہے اور جو لوگ عصر کا آخری وقت آفتاب کے زرد ہونے کو مانتے ہیں ان کی دلیل وہ روایات ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غروب آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت فرمائی ہے ‘ روایات یہ ہیں۔
تخریج : نسائی ١؍٩٤‘ ابن ماجہ ١؍٥١۔
حاصل روایات : ان چار روایات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ غروب سے پہلے ایک رکعت پانے والا گویا عصر کی نماز پانے والا ہے خواہ ثواب پانے والا یا نماز ما فی الذمہ والا ہو بہرحال وقت عصر غروب آفتاب تک نہ ہوتا تو اس کو مدرک بالصلاۃ نہ کہا جاتا پس ثابت ہوا کہ عصر کا آخری وقت غروب آفتاب ہے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے۔
فریق ثانی :
عصر کا وقت اصفرار آفتاب تک ہے۔ اس کو امام احمد بن حنبل اور اسحاق راہویہ نے اختیار کیا امام طحاوی (رح) کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔