hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 919

.

الطحاوي

919
Al Tahawi
۹۱۹ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّہٗ صَلَّاہَا بَعْدَ مُضِیِّ نِصْفِ اللَّیْلِ فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ قَدْ کَانَتْ بَقِیَّۃٌ مِنْ وَقْتِہَا، بَعْدَ مُضِیِّ نِصْفِ اللَّیْلِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ ذٰلِکَ أَیْضًا، مَا ہُوَ أَدَلُّ مِنْ ھٰذَا .
٩١٩: یحییٰ بن ایوب نے حمید اور انھوں نے انس (رض) سے اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ان آثار سے واضح ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز نصف شب کے گزرنے پر ادا فرمائی۔ اس سے یہ دلیل مل گئی کہ عشاء کا وقت نصف شب کے بعد ہے۔ اس سلسلہ میں یہ مرویات اس سے بھی زیادہ دلالت کرتی ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٣؍٢٠٠۔
حاصل روایات : نصف رات گزرنے کے بعد نماز پڑھائی اس کا معنی یہی ہوا کہ نماز عشاء کا وقت باقی تھا آدھی رات پر ختم نہ ہوا تھا ورنہ مؤخر نہ فرماتے یہ تاخیر بیان جواز کے لیے تھی۔
ان روایات سے زیادہ واضح روایت یہ ہے۔