۹۲۴ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمُہَاجِرِ، مِثْلَہٗ وَزَادَ (وَلَا أَدْرِیْ ذٰلِکَ إِلَّا نِصْفًا لَکَ) .فَفِیْ ھٰذَا أَنَّہٗ قَدْ جَعَلَ لَہٗ أَنْ یُصَلِّیَہَا إِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ وَقَدْ جَعَلَ ذٰلِکَ نِصْفَہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
٩٢٤: عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین اور انھوں نے مہاجر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں اور میں اس کو نہیں جانتا مگر تمہیں نصف ثواب ملے گا۔ اس روایت میں انھوں نے نصف لیل تک پڑھنا مقرر کیا اور اس کو نصف ثواب قرار دیا۔ اس میں یہ ثابت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے آدھی رات تک ادا کرنا مقصرر فرمایا اور اس کے ثواب کو آدھا قرار دیا اور بھی اس سلسلہ میں روایات آئی ہیں۔